کو فی الفور مان لیا گیا۔ ایسا ہی حضرت مسیح ؑ کے وقت میں بھی ہوا اور اب بھی ویساہی ہوا۔ جھوٹوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ راستباز پر حملہ کرتے ہیں اور اس کی مخالفت کے لئے سب مل بیٹھے ہیں۔‘‘
۱۸؍نومبر۱۹۰۱ء
سَیر سے واپسی پرحضرت اقدس ؑ نے نواب صاحب کو خطاب کرکے فرمایا:۔
اعزّہ کو تبلیغ
مَیں سنتا ہوں کہ آپ اپنے عزّہ کو وقتاً فوقتاً تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ یہ بہت ہی عُمدہ بات ہے۔ ہر وقت انسان کو فکر کرنی چاہیے کہ جس طرح ممکن ہو۔عورتوں اور مردوں کو
اس امر الہٰی سے اطلاع کردیوے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اپنے قبیلہ کا شیخ اسی طرح سوال کیا جائے گا، جیسے کسی قوم کا نبی۔ غرض جو موقعہ مل سکے۔ اسے کھونا نہیں چاہیے۔ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب وانذرعشیر تک الاقربین (الشعرائ:۲۱۵) کا حکم ہوا، تو آپ نے نام بنام سب کو خدا کا پیغام پہنچادیا۔ ایسا ہی مَیں نے بھی کئی مرتبہ عورتوں اور مردوں کو مختلف موقعوں پر تبلیغ کی ہے اور اب بھی کبھی گھر میں وعظ سُنایا کرتا ہوں۔
مَیں نے ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کے لئے ایک قِصّہ کے پَیرایہ میں سوال وجواب کے طور پر سارے مسائل آسان عبارت میں بیان کیے جاویں، مگر مجھے اس قدر فُرصت نہیں ہوسکتی۔ کوئی اور صاحب اگرلکھیں، توعورتوں کو فائدہ پہنچ جاوے۔‘‘
فضول خرچی
فرمایا:’’اُمراء بہت سے فضول خرچ رکھتے ہیں، جس سے آخر کوانہیں بہت نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ اگر وہ اعتدال کے ساتھ اپنی زندگی بسرکریں،تو کچھ حرج نہیں ہے۔
سُود کی بَلانے مُسلمانوں کو بہت کمزورکردیا ہے۔ یہ نبیئے سُود درسُود لے کرآخر ساری جائدادوں پرقبضہ کرلیتے ہیں۔‘‘
کثرتِ ازدواج کی اسلامی بناء
فرمایا:’’اگرچہ عورت بجائے خودپسند نہیں کرتی کہ کوئی اورا س کی سوت آوے، مگر اسلام نے جس اُصول پر کثرتِ
ازدواج کو رکھا ہے۔