کے ہیں میسرآئے ہیں اور اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں وہ پہلے نہیں ہوئے اور نہ مذاہب کا اس قدر زور ہوا۔ غرض یہ نشانات اپنی نظیر نہیں رکھتے۔ الہٰی بخش کی پیش گوئیاں کیاحقیقت رکھ سکتی ہیں۔‘‘ سچے موحدّ خداداد قویٰ سے کام لے سکتے ہیں فرمایا:’’جو قویٰ خداتعالیٰ نے انسان کو دیئے ہیں۔ ان سب سے بجز سچے موحدِّکے کوئی دُوسرا کام نہیں لے سکتا۔ شیعہ ترقی نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ تو اپنی ساری کوششوں کو مُنتہاء امام حسین ؓ کو سمجھ بیٹھے۔ ان کو رولینا اور ماتم کرلینا کافی قرارد دے لیا۔ ہمارے اُستاد ایک شیعہ تھے۔ گل علی شاہ اُن کا نام تھا۔ کبھی نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔ مُنہ تک نہ دھوتے تھے۔ [اس پر نواب صاحب نے آپ ؐ کی تائید میں بیان کیا کہ وہ میرے والد صاحب کے بھی اُستاد تھے اور وہاں جایاکرتے تھے۔ اور یہ واقعی سچ ہے کہ اُن کی مسجدیں غیرآباد ہوتی ہیں۔] ہماری مسجد کا ایس اہی حال تھا اور اب خدا کے فضل سے وُہ آباد ہوگئی ہے۔ اور لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس ؑ نے نواب صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’وہ کبھی کبھی آپ کے والد صاحب کاذکر کرتے تھے اور یہاں سے تین تین مہینے کی رُخصت لے کر مالیر کوٹلہ جایاکرتے تھے۔ مَیں نے غائبانہ بھی کئی مرتبہ ذکر کیا ہے اور میری فراست مجھے یہی بتاتی ہے(یہ نواب صاحب کی مسجد کے آباد ہونے اور نمازیوں کے آنے کے ذکر پر فرمایا) کہ راستی کو قبول کرنا اور پھر خداتعالیٰ کی عظمت اور جلال سے ڈر جانا اور اُس کی طرف رجوع کرنا آپ کے اورآپ کی اولاد کے اقبال کی نشانی ہے۔ بجُز اس کے کہ انسان سچّائی سے خدا کی طرف آئے۔ خُدا کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ خواہ وُہ کوئی ہو۔ مبارک دن ہمیشہ نیک بخت کو ملتے ہیں۔ یہ آثار صلاحیت،تقویٰ اور خداترسی کے جو آپ میں پیدا ہوگئے ہیں۔آپ کے لیے اور آپ کی اولاد کے لئے بہت ہی مفیدہیں۔‘‘ مخالف ہمیشہ سچّوں کی ہوتی ہے فرمایا:’’مجمل طور پرلکھا ہے کہ طاعُون ترقی پر ہے۔ میراارادہ ہے اور مولوی صاحب نے بھی کہا ہے کہ ایک بارپھر طاعون کے متعلق ایک اشتہار دے دیا جاوے کہ لوگ رجُوع کریں اور سچی پاکیزگی اور تبدیلی پیداکریں۔ دیکھاگیا ہے اور سُنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جس قدر زور ہوا ، سچوں پر ہی ہوا۔ اُن کی مخالفت میں ساری طاقتیں خرچ کی گئی ہیں۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کتنا زور لگایاگیا۔ برخلاف اس کے مسیلمہ کذاب