ہے۔اگر ہم اس سے کچھ بنائیں تو وہ ہم سے خوش ہوتا ہے اور جو کچھ نہیں بناتا اس سے ناراض ہوتا ہے۔
حضرت اقدس:اچھا!آپ کچھ روز یہاں قیام کریں گے؟تاکہ آپ ہمارے مذہب سے جو کچھ ہم پیش کرتے ہیں فائدہ اٹھائیں۔
یورپین:میں ایک دن کے بعد واپس جانا چاہتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ کل تک ٹھہر سکتا ہوں۔
حضرت اقدس:آپ ایک ہفتہ تک نہیں ٹھہر سکتے؟
یورپین:نہیں میں نہیں ٹھہر سکتا ۔مسٹر کینڈی ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس بٹالہ میں میرے منتظر ہوں گے۔میں انہیں آج آنے کو کہہ آیا ،مگر خیر کل چلا جاؤں گا۔
حضرت اقدس:جب آپ کسی کے نوکر نہیںاور اپنے آپ ہی بادشاہ ہیں اور صرف نظارہ عالم کے لئے نکلے ہیں تو پھرآپ کیوں ایک ہفتہ کے لئے نہیں ٹجہر سکتے؟
یورپین:یہ سچ ہے مگر میں انے اپنے پیش نظر کل دنیا کا دیکھنا رکھا ہے ۔اگر میںاس طرح پر ٹھہرنے لگوں تو مجھے اندیشہ ہے کہ بہت سی دل چسپیاں مجھے ٹھہراتی جائیں گی۔
حضرت اقدس:آپ کے چہرے سے اچھے آثار ظاہر ہوتے ہیں اورآپ سمجھ دار اور زیرک معلوم ہوتے ہیں۔کیا اچھا ہو کہ آپ ایک ہفتہ یہاں ٹھہر جائیں اور ہماری باتوں کو سمجھ لیں۔اگر آپ کا ارادہ ہو اور آپ پسند کریں،تو صاحب کو ایک چٹھی لکھ دی جاوے۔
یورپین:میں آپ کا بہت مشکور ہوں اور مجھے افسوس ہے کہ میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتا۔
۱۷ ؍نومبر ۱۹۰۱ء کی شام
آنحضرت ؐ کے نشانات کا ظہور
فرمایا:’’ہمارادعویٰ ہے کہ دُنیا میں کوئی آدمی ایسا پیش کرو کہ جس کے اس قدر نشانات ، جن کے کروڑوں گواہ ہوں
پُورے ہوئے ہوں۔ ایک سوسے زیادہ عظیم پیشگوئیاں کتاب (تریاق القُلوب) میں دَرج کردی گئی ہیں۔ جب یہ لوگ کسی کو پیش نہیں کرسکتے تو کہہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی فضیلت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کو اتنی خبر نہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہاں فضیلت ہوئی۔ یہ بزرگی اورعظمت تو آپ ہی کی ہوئی۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باہرتو کوئی چیز نہیں، بلکہ اُسی کے رنگ میں اُسی کی چادر میں سے یہ ظہور نشانات کاہورہا ہے اور اسی کے ہاتھ پر صادر ہورہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو اسباب اورسامان تبلیغ اوراشاعت