حضرت اقدس:آپ کے سفر کا مقصد کیا ہے؟ یورپین:صرف دید شنید سیاحت۔ حضرت اقدس:کیا آپ بحیثت کسی پادری کے سفر کرتے ہیں؟ یورپین:ہر گز نہیں۔ حضرت اقدس:آپ کی دل چسپی زیادہ تر کس امر کے ساتھ ہے۔کیا مذہب کے ساتھ یا علمی امور کی طرف یا پو لیٹیکل امور کے ساتھ۔ یورپین:میں صرف نظارہ عالم دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ کسی طرح دل مضطر کو آرام آجائے۔ حضرت اقدس:آخر آپ کے سفر کی کوئی غرض بھی ہے؟ یورپین:کوئی مدعا نہیں۔ حضرت اقدس:کیا آپ فری میسن ہیں؟ یورپین:میں ان کا یقین نہیں رکھتا۔بلکہ میں اپنا آپ ہی بادشاہ ہوں۔اور آپ ہی اپنا لاج ہوں۔میں سب کا دوست ہوں اور کسی کا دشمن نہیں ہوں۔ حضرت اقدس:آپ کا نام کیا ہے؟ یورپین:ڈی ڈی ڈکسن۔ حضرت اقدس:عیسائی فرقوں میں سے آپ کس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ یورپین:میں کسی فرقہ کا پابند نہیں ہوں۔میرا اپناخاص مذہب ہے۔دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جس میں صداقتیں نہ ہوں۔میں ان سب مذاہب میں سے صداقتوں کو لے کر اپنا ایک الگ مذہب بناتا ہوں۔ حضرت اقدس:اگر آپ کا کوئی مذہب نہیں۔تو یہ مجموعہ انتخاب بھی تو ایک مذہب ہی ہونا چاہیے۔ یورپین:ہاں اگر آپ اسے مذہب کہنا چاہیں۔تو میرا یہی مذہب ہے کہ مختلف صداقتیں لیتا ہوں۔ حضرت اقدس:اچھا،جو مذہب آپ نے مختلف مذاہب کی صداقتوں کو لے کر جمع کیا ہے وہ غلطیوں سے بالکل منزہ ہے یا کوئی اور بھی ایسا آپ کے نزدیک ہے جو بالکل غلطیوں سے مبراء ہو ؟ یورپین:جو مذہب میں نے جمع کیا ہے،وہ تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے اچھا ہے اور وہ مسیح کی اس تمثیل کے اصول پر ہے جو اس نے کسی مالدار آدمی کی بیان کی ہے کہ اس نے اپنے نوکروں کو کچھ روپیہ دیا ۔اس میں سے ایک نے تو اس روپیہ کو کسی مصروف کام میں لگا لیا اور کچھ بنایا۔دوسرے نے کچھ نہ کیا ۔پس خدا نے جو کچھ ہم کو دیا