طعن درست نہیں۔کوئی دو سو برس پہلے کافر ہوا اور کوئی چار سو برس پہلے کافر ہوا تھا ۔یہ کیا ہے۔آخر آج جو سید کہلاتے ہیں کیا ان کے آباو اجداد میں سے کسی پر کفر کے حالات نہیں گزرے؟پھر ایسے اعتراض کرنا دانشمندی نہیں۔ ہندوستان میں جب مغل آئے تو انہوں نے مسجدیں بنائیں اور اپنا قیام کیا۔الناس علے دین ملو کھم کے اثر سے اسلام پھیلنا شروع ہوا۔اور اب تک حرمین شریفین ترکوں ہی کی حفاظت کے نیچے خدانے رکھی ہوئی ہے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ے کہ خدا نے دنیا میں دو ہی گروہ رکھے ہوئے ہیں۔ایک ترک دوسرے سادات۔ترک ظاہری حکومت اور ریاست کے حقدار ہوئے اور سادات کو فقر کا مبداء قرار دیا گیا ؛چنانچہ صوفیوں نے فقر اور روحانی فیوض کا مبداء سادات ہی کو ٹھہرایا ہے اور میں نے بھی اپنے کشوف میں ایسا ہی پایا ہے۔دنیا کا عروج ترکوں کو ملا ہے۔‘‘ حضرت اقدس یہ ذکر رہے تھے۔ایک یورپیں صاحب بہادر اندر آئے اور ٹوپی اتار کر مجلس میں آگے بڑھے اور بڑھتے ہی کہا: ایک یورپین سیاح سے گفتگو یورپین:اسلام علیکم۔ ان کے سلام کہنے پر مختلف خیال حاضرین کے دل میںگزرے۔ کسی نے ترک سمجھا اور کسی نے نو مسلم۔صاحب موصوف کو بیٹھے ہوئے ایک منٹ ہی گزرا ہو گا کہ خانصاحب نواب خاں صاحب تحصیلدار گجرات نے پوچھا:آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یورپین:میں سیاح ہوں۔ خانصاحب:آپ کا وطن؟ یورپین:میں اتنا اردو نہیں جانتا اور پھر سمجھ کر بولا۔او ہاں انگلینڈ۔ اتنے میں مفتی محمد سادق صاحب آگئے۔حضرت اقدس کے ایماء سے وہ ترجمان ہوئے اور اس طرح پر حضرت مسیح موعود اقدس اور یورپین نووارد میں گفتگو ہوئی۔ حضرت اقدس:آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یورپین:میں کشمیر سے گلو گیا تھا اور وہاں سے ہو کر اب یہاں آتا ہوں۔ حضرت اقدس:آپ کا اصل وطن کہاں ہے؟ یورپین:انگلینڈ۔میں سیاح ہوں۔اور عرب اور کربلا بھی گیا تھا۔اب میں یہاں سے مصر الجیریا کا رتھیج اور سوڈان جاؤں گا۔