یہ کوئی معجزہ یا کرامت تو ہے نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصالح سلطنت کے لئے کوئی ایسا مجمع ہوتا ہو گا۔‘‘ ایک منذر الہام فرمایا:’’آج ایک منذر الہام ہوا ہے۔اور اس کے ساتھ ایک خوفناک رویاء بھی ہے۔وہ الہام یہ ہے۔محمود پھر نظرت الی المحموم۔پھر دیکھا کہ بکرے کی ران کا ٹکڑا چھت سے لٹکایا ہوا ہے۔‘‘؎۱ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۱؁ء انقلاب دنیا فرمایا:’’حضرت ابراہیم کا باپ آذر ہی تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا نام اب رکھا ہے۔اس قسم کے انقلاب دنیا میں ہوتے ہوئے آئے ہیں۔کبھی باپ صالح ہوتا ہے۔بیٹاطالح ہوتا ہے۔اور کبھی بیٹا صالح ہوتا ہے اور باپ طالح ہوتا ہے۔ہمارے پردادا صاحب بڑے مخیر تھے۔اور با خدا بزرگ تھے۔چنانچہ لوگ کہا کرتے تھے کہ ان کو گولی کا اثر نہیں ہوتا۔ایک وقت میں ان کے دستر خوان پر ۵۰۰ آدمی ہوا کرتیت تھے۔اور اکثر حافظ قرآن اور عالم ان کے پاس رہتے تھے۔اور قادیان کے ارد گرد ایک فصیل ہوتی تھی جس پر تین یا چار چھکڑے برابر برابر چلا کرتے تھے۔خدا کی قدرت سکھوں کی تعدی اور لوٹ کھسوٹ میں وہ سب سلسلہ جاتا رہا اور ہمارے بزرگ یہاں سے چلے گئے۔پھر جب امن ہواتو وا پس آئے۔‘‘ سید سفرمایا:’’سید با اعتبار اولاد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں کہلاتے،بلکہ حضرت فاطمہ رضہ اللہ تعالیٰ عنھا کی اولاد ہونے کی حیثیت سے کہلاتے ہیں۔ ترکوں کے ذریعہ سے اسلام کو قوت حاصل ہوئی فرمایا:’’اگرچہ ہمارے نزدیک ان اکرمکم عند اللہ اتقکم(الحجرات:۱۴)ہی ہے اور ہمیں خواہ مخواہ ضروری نہیں ہے کہ ترلکوں کی تعریف کریں یا کسی اور کی کریں،مگر سچی اور حقیقی بات سے ہم رک نہیں سکتے۔ترکوں کے زریعہ سے اسلام کو بہت بڑی قوت حاصل ہوئی ہے ۔یہ کہنا کہ وہ پہلے کافر تھے یہ