نہیں آتے غرض یہ کہ خدا تعالیٰ کے افعال گو ناگوں ہیں ۔خدا تعالیٰ کی قدرت کبھی درماندہ نہیں ہوتی اوروہ نہیں تھکتا وھو بکل خلق علیم(یٰسیں:۸۰)افعیینا بالخلق الاول(ق:۱۶) اس کی شان ہے۔اللہ تعالیٰ کے بے انتہا قدرتوں اور افعال کا،کیسا ہی صاحب عقل اور علم کیوں نہ ہو،اندازہ نہیں کر سکتا۔بلکہ اس کو اظہار عجز کرنا پڑتا ہے۔
مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔ڈاکٹر خوب جانتے ہیں۔عبد الکریم نامی ایک شخص میرے پاس آیا ۔اس کے پیٹ کے اندر ایک رسولی تھی،جو پاخانہ کی طرف بڑھتی جارہی تھی۔ڈاکٹروں نے اس سے کہا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔اس کو بندوق مار کر مار دینا چاہیے۔الغرض بہت سے امراض اس قسم کے ہیں جن کی ماہیت با خوبی ڈاکٹروں کو معلوم نہیں ہو سکتی۔مثلاًطاعون یا ہیضہ ایسے امراض ہیںکہ اگرڈاکٹر کو پلیگ ڈیوٹی پر مقرر کیا جاوے،تو اسے خود ہی دست لگ جاتے ہیں۔ انسان جہاں تک ممکن ہو علم پڑھے اور فلسفہ کی تحقیق میں محو ہو جاوے،لیکن بالآخر اس کو معلوم ہی ہوگا کہ اس نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔حدیث میں آیا ہے کہ جیسے سمندر کے کنارے ایک چڑیا پانی کی چونچ بھرتی ہو۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام اور فعل کے معارف اور اسرار سے حصہ ملتا ہے۔پھر کیا عاجز انسان !ہاں، نادان فلسفی اس حیثیت اور شیخی پرخدا تعالیٰ کے ایک فعل شق القمر پر اعتراض کرتا اور اسے قانون قدرت کے خلاف ٹھہروتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اعتراض نہ کرو۔نہیں کرو اور ضرور کرو۔شوق سے اور دل کھول کے کرو،لیکن دو باتیں زیر نظر رکھ لو۔اول خدا کا خوف(اور اس کی لامحدود طاقت) دوسرے (انسان کی نیستی اور محدود علم)برے بڑے فلاسفر بھی آخر یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔انتہائے عقل ہمیشہ انتہائے جہل پر ہوتی ہے۔مثلاً ڈاکٹروں سے پوچھوکہ عصبی مجوفہ کو وہ سب جانتے اور سمجھتے ہین،مگر نور کی ماہیت اور اس کا کنہ تو بتلاو کہ کیا ہے؟آواز کی ماہیت پوچھو تو کہہ دیںگے کہ کان کے پردے پر یوں ہوتا ہے اور وؤں ہوتا ہے،لیکن ماہیت آواز کاکچھ بھی نہ بتلا سکیں گے۔آگ کی گرمی اور پانی کی ٹھنڈک پر کیوں کا جواب نہ دے سکیں گے۔کنہہ اشیاء تک پہنچنا کسی حکیم یا فلاسفر کا کام نہیں ہے۔دیکھئے ہماری شکل آئینہ میں منعکس ہوتی ہے،لیکن ہمارا سر ٹوٹ کر شیشہ کے اندر نہیںچلا جاتا ۔ہم بھی سلامت ہیںاور ہمارا چہرہ بھی آئینہ کے اندر نظر آتا ہے۔پس یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ چاند شق ہو اور شق ہو کر بھی انتظام دنیا میں خلل نہ آوے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ اشیاء کے خواص ہیں۔کون دم مار سکتا ہے ۔اس لئے خدا تعالیٰ کے خوارق اور معجزات کا انکار کرنا اور انکار کے لئے جلدی کرنا ناشتاب کاروں اور نادانوں کا کام ہے۔
خدا کی قدرتوں اور عجائبات کو محدود سمجھنا دانش مندی نہیں
خدا کی قدرتوں اور اور عجائبات کو محدود سمجھنا ، دونش مندی نہیں۔وہ اپنی ماہیت نہیں جانتا اور سمجھتا اور آسمانی باتوں پر رائے زنی کرتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا گیا ہے
تو کار زمیں رانکوساختی کہ باآسماں نیز پر داختی