بھروسہ کرنے والا ایک شیطان ہوتا ہے۔انسان بہادر بنے۔یہ بات زور زور سے نہیں ملتی۔دعا کرے اور دعا کروا دے۔صادقوں کی صحبت اختیار کرے۔سارے کے سارے خدا کے ہو جاؤ۔دیکھو کوئی کسی کی دعوت کرے اور نجس ٹھیکرے میں روٹی لے جائے۔اسے کو کھائے گا۔وہ تو الٹا مار کھائے گا۔باطن بھی سنوارو اور ظاہر بھی درست کرو۔انسان اعمال سے ترقی نہیں کر سکتا۔آنحغرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رتبہ جانے سے ترقی کر سکتا ہے۔‘‘ ۱۶؍نومبر ۱۹۰۱؁ء معجزہ اسلام کی پہلی اینٹ ہے فرمایا:’’افسوس ان لوگوں نے اسلام کو بد نام کیا ہے۔جس بات کو سمجھتے نہیں۔اس میں یورپ کے فلاسفروں کے چند ے معنی کتابیں پڑھ کر داخل دیتے ہیں۔معجزات اور مکالمات الہیہ ہی ایسی چیزیں ہیں جن کا مردہ ملتوں میں نام ونشان نہیں ہے۔اور معجزہ تو اسلام کی پہلی اینٹ ہے اور غیب پر ایمان لانا سب سے ضروری ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات دہریت کا نتیجہ ہیں۔جو خطر ناک طور پر پھیلتی جا رہی ہے۔سید احمد نے خود بھی وحی کی حقیقت نہیںسمجھی۔دل سے پھوٹنے والی وحی شاعروں کے مضمون آفرینی سے برھ کر کچھ بھی وقعت نہیں رکھتے۔افسوس ہے کہ مولوی ساحب نے روپیہ خرچ کیا اور کوشش کی۔مگر نتیجہ یہ نکلا۔مولوی صاحب اس کو ضرور خط لکھ دیں اور اسے بتائیں کے معجزات اور مکالمات اور پیش گوئیاں ہی ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ مذہب قرار دیا ہے۔ فری مینسزFree masons فرمایا:’’ہم کو کبھی کبھی خیال پیدا ہوتا ہے کہ فری میسن کی حقیقت معلومہو جاوے۔مگر کبھی توجہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ان حالات کو جو میں اپنے لیکچر میں بیان کرتا ہوں۔سن کر اس الہام کی جو مجھے عطا ہوا۔ایک عظمت معلوم ہوتی ہے۔اس الہام کا مضمون یہ ہے کہ فری میسن اس کے قتل پر مسلط نہیں کئے جائیں گے۔اس الہام میں بھی گویا فری میسن کی حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ بعض ایسے امور ہیں جہاں کسی قانون سے کام نہ چلتا ہو۔اپنی سوسائٹی کے اثر سے کام لیتے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ فری میسن کی مجلس میں ضرور بعض بڑے بڑے اہلکار اور عمائد سلطنت یہاں تک کہ بعض بڑے شہزادے بھی داحل ہوں گے۔اور ان کا رعب داب ہی مانع ہوتا ہو گا۔کہ کوئی اس کے اسرار کھول سکے۔ورنہ