پورا کر دے گا ۔مخفی رہنا ایمان میں نقص ہے۔جو مصیبت آتی ہے اپنی کمزوری سے آتی ہے۔دیکھو آگ دوسروںکو کھا جاتی ہے۔پر ابراہیم کو نہ کھا سکی،مگر خدا کی راہ بغیر تقویٰ کے نہیں کھلتی۔ تقویٰ اختیار کرو معجزات دیکھنے ہوں تو تقویٰ اختیار کرو۔ایک وہ لوگ ہیں جو ہر وقت معجزات دیکھتے ہیں۔دیکھو آجکل میں عربی کراب اور اشتہار لکھ رہا ہوں۔اس کے لکھنے میں سطر سطر میں معجزے دیکھتا ہوں۔جبکہ میں لکھتا لکھتا اٹک جاتا ہوں تو مناسب موقع فصیح وبلیغ پر معانی ومعارف فقرات والفاظ خدا کی طرف سے الہام ہوتے ہیں اور اسی طرح عبارتیں کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں۔اگرچہ میں اس کولوگوں کی تسلی کے لئے پیش نہیں کر سکتا ۔مگر میرے لئے یہ ایک کافی معجزہ ہے۔اگرمیں اس بات پر قسم کھا کر بھی کہوں کہ مجھ سے پچاس ہزار معجزا خدا نے ظاہر کیا ہے تب بھی جھوت ہر گز نہ ہو گا۔ہر ایک پہلو میں ہم پر خدا کی تائید کی بار ش ہو رہی ہے۔عجب تر ان لوگوں کے دل ہیں جو ہم کو مفتری کہتے ہیں۔مگر وہ کیا کریں۔ولی راہ ولی شناسد۔کوئی تقویٰ کے بغیر ہمیں کیونکر پہچانے۔رات کو چور چوری کے لئے نکلتا ہے۔اگر راہ میں گوشہ کے اندر کسی ولی کو بھی دیکھے جو عبادت کر رہا ہو وہ یہ ہی سمجھے گا کہ یہ بھی میری طرح کا ہی چور ہے۔ خدا عمیق در عمیق چھپا ہوا ہے۔اور ایسا ہی وہ ظاہر د رظاہر ہے ۔اس کا ظہور اتنا ہی ہوا کہ وہ مخفی ہو گیا۔جیسا کہ سورج اس کی طرف کوئی دیکھ نہیں سکتا ۔خدا کا پتہ حق الیقین کے ساتھ نہیں پا سکتے۔جب تک کہ تقویٰ کی راہ میں قد نہ ماریں۔دلائل کے ساتھ ایمان قویٰ نہیں ہو سکتے۔بغیر خدا کی آیت دیکھنے سے ایمان پورا نہیں ہو سکتا۔یہ اچھا نہیں ہے کہ کچھ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا ہو۔صحابہ کو دیکھو۔کس طرھ اپنی جانیں نثار کیں۔ابو بکر جب ایمان لایا تو اس نے کونسا دنیا کا فائدہ دیکھا تھا۔جان کا خطرہ تھا اور ابتلاء بڑھتا جاتا تھا۔مگر صحابہ نے صدق خوب دکھایا۔ ایک صحابی کا زکر ہے۔کہ وہ کملی اڑھے بیٹھا تھا۔کسی نے اس کو کچھ کہا۔عمر پاس سے دیکھتے تھے۔انہوں نے فرمایا۔اس شخص کی عزت کرو۔میں نے اس کو دیکھا ہے کہ یہ گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔اور اس کے آگے پیچھے کئی کئی نوکر چلتے ہیں۔صرف دین کی خاطر اس نے سب سے ہجرت کی۔دراصل یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روحانیت کا زور تھا۔جو صحابہ میں داخل ہوا۔ان کا کوئی جھوٹ ثابت نہیں۔ہر امر میں ایک کشش ہوتی ہے۔دیکھو دیوار کی اینٹوں میں ایک کشش ہے۔ورنہ اینٹ اینٹ الگ ہو جائے۔ایسی ہی جماعت میں ایک کشش ہوتی ہے ۔یہ ہوتا آیا ہے کہ ہر نبی کی جماعت میں سے کچھ لوگ مرتد بھی ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی موسیٰ اور عیسیٰ اور آنحضرت صلی لالہ علیہ والہ وسلم کی جماعت کے ساتھ ہوا۔ان لوگوں کا مادہ خبیث ہوتا ہے۔اور ان کو حصہ شیطان کے ساتھ ہوتا ہے،مگر جو لوگ اس صداقت کے وارث ہوتے ہیں۔وہ اس میں قائم رہتے ہیں۔ غرض خدا کی راہ میں شجاع بنو۔انسان کو چاہیے۔کبھی بھروسہ نہ کرے کہ ایک رات میں زندہ رہوں گا۔