وضع عالم کی کرویت سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ٓادم ہی سے شروع ہو کر آدم ہی پر سلسلہ ختم ہوتا ہے؛کیونکہ محیط دائرہ کا خط جس نقطہ سے چلتا ہے ۔اس پر ہی جا کر ختم ہو جاتا ہے۔اسی لئے مسیح موعود جو خاتم الخلفاء ہے اس کا نام بھی خدا نے آدم ہی رکھا ہے؛چنانچہ براہین احمدیہ میں درج ہے۔ اردت ان استخلف فخلف ادم چونکہ مسیح موعود نئی طرز کا آدم ہے،اس لئے اس کے ساتھ شیطان بھی نئی طرز کا ہے۔‘‘؎۱ ۱۴؍نومبر ۱۹۰۱ ؁ء سچی شہادت کو چھپانا اچھا نہیں فرمایا:’’دنیا چند روزہ ہے ۔شہادت کو چھپانا اچھا نہیں۔دیکھو بادشاہ کے پاس جب کو ئی تحفہ لے کر جائے مثلاً سیب ہی ہو ۔اور سیب ایک طرف سے دماغی ہو ؛تو وہ ا تحفی سے کیا حاصل کرے گا۔مخفی ہونے میں بہت سے حقوق تلف ہو جاتے ہیں۔مثلاً نماز با جماعت ،بیمار کی عیادت،جنازہ کی نماز،عیدین کی نماز،وغیرہ۔یہ سب حقوق مخفی رہ کر کیونکر ادا ہو سکتے ہیں۔مخفی رہنے میں ایمان کی کمزوری ہے۔انسان اپنے ظاہری فوائد کو دیکھتا ہے۔مگر وہ بڑی غلطی کرتا ہے۔کیا تم ڈرتے ہوکہ سچی شہادت کے ادا کرنے سے تمہاری روزی جاتی رہے گی؟خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔و فی السماء رزقکم وما تو عدون فو رب السماء والارض انہ لحق(الذٰریاٰت:۲۳،۲۴) تمارا رزق آسمان میں ہے۔ہمیں اپنی زات کی قسم ہے۔یہ سچ ہے۔زمین پر خدا کے سواکون ہے جو اس رزق کو بند کر سکے یا کھول سکے۔فرماتا ہے۔وھو یتولی الصالحین(الاعراف:۱۹۷)نیکیوں کا وہ ٓپ ولی بن جاتا ہے۔پس کون ہے جو مرد صالح کو ضرر دے سکے؟اور اگر کوئی مصیبت یا تکلیف انسان کو آن پڑے من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً(الطلاق:۳)جو خدا کے اگے تقویٰ اختیار کرتا ہے ،خدا اس کے لئے ہر تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے۔اور فرمایا۔ویر زقہ من حیث لا یحتسب(الطلاق:۴)وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہں سے رزق آنے کا خیال یا گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کونہیں۔پس خدا پر ایمان لاؤ۔خدا سے درنے والے ہر گز ضائع نہیں ہوتے۔یجعل لہ مخرجاً یہ ایک وسیع بشارت ہے۔تم تقویٰ اختیار کرو۔خدا تمہارا کفیل ہو گا۔اس کا جو وعدہ ہے وہ سب