میں کئی منٹ تک یہ تماشا دیکھتا رہا اور بعض عورتون نے بھی اس کو دیکھا۔غرض قرآن مجید نے اس کی جوکچھ حقیقت بیان کی ہے وہ صحیح ہے۔ ہاں جو یہ برزخ ہیںیہ وحدت خلقی کی دلیل ہیں۔اسی طرح پر انسان اور خدا کے درمیان بھی ایک برزخ ہے۔اور وہ تجلیات ہیں۔چنانچہ اس مقام اور مرتبہ کی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی(النجم:۹،۱۰)یہ آنحضرت صلی اللہ رعلیہ والہ وسلم کے علوم مرتبہ کا بیانہے کیونکہ یہ مرتبہ اس انسان کامل کو مل سکتا ہے جو عبودیت اور الوہیت کے دونوں قوسوں کے درمیان ہو کر ایسا شدید اور قوی تعلق پکڑتا ہے۔گویا اد دووںکا عین وہ جاتا ہے۔اور اپنے نفس کو درمیان سے اٹھا کر ایک مصفا آئینہ کا حکم پیدا کر لیتا ہے۔اور اس تعق کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ایک جہت سے یعنی اوپر کی طرف سے وہ تمام انوار وفیوض الہیہ کو جزب کر لیتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تمام فیوض بنی نوع کی حسب استعداد پہنچاتا ہے۔پس ایک تعلق اس کا الوہیت سے اور دوسرا نبی نوع سے۔جیسا کہ اس آیت میں صاف معلوم ہوتا ہے یعنی پھر نزدیک سے(یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اترا (یعنی مخلوق کی طرف اترا یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا) پس وہ ان تعلقات قرب کے مراتب تام کی وجہ سے دو قوسوں کے وتر کی طرح کا ہو گیا تھا ۔بلکہ قوس الوہیت اور عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ قرب ہو گیا۔چونکہ دنو قرب سے ابلغ تر ہے۔اس لئے خدا نے اس لفظ کو استعمال کیا اور یہی نقطہ جو برزخ بین اللہ دبین الخلق ہے۔نفسی نقطہ سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم خدا سے لیتے اور نبی نوع کو پہنچاتے ہیں اس لئے آپ کا نام قاسم بھی ہے۔‘‘ وضع عالم میں وحدت فرمایا:’’وضع عالم میں خدا تعالیٰ نے توحید کا ثبوت رکھا ہے ۔وضع عالم میں کرویت ہے۔پانی ستارے آگ وغیرہ یہ چیزیں سب گول ہیں۔ چونکہ کرہ میں وحدت ہوتی ہے ۔اس لحاظ سے اس میں جہات نہیں ہوتی۔پس یہ وضع عالم میں توحید الہی کا ثبوت ہے۔پانی کا ایک قطرہ دیکھو تو وہ گول ہے۔ایسا ہی اجرام اور آگ بھی ہے۔آگ کی ظاہری حالت سے کوئی اگر یہ کہے کہ یہ گول نہیں ہوتی تو یہ اس کی غلطی ہے،کیونکہ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ آگ کا شعلہ دراصل گول ہوتا ہے،مگر ہوا اس کو منتشر کرتی ہے۔ عیسائیوں نے بھی یہ بات مان لی ہے کہ جہاں تثلیث نہیں پہنچتی۔یعنی تثلیث کو تبلیغ نہیں ہوئی۔وہاں ان سے توحید کی باز پرس ہو گی۔کیونکہ وضع عالم میں توحید کا ثبوت ملتا ہے۔اگر خدا تین ہوتے تو ضرور تھاکہ سب اشیاء مثلث نما ہوتیں۔