حسرتیں ہیںجو انسان کو آگھیرتی ہیں۔کیونکہ تمام راحانی عذاب دل سے ہی شروع ہوتے ہیں۔جیسے تمام روحانی سروروں کا منبع بھی دل ہی ہے اوردل ہی سے شروع ہونا چاہیے۔کیونکہ دل ہی ایمان اور بے ایمانی کا منبع ہے۔ ایمان یا بے ایمان کا شگوفہ بھی پہلے دل ہی سے نکلتا ہے اور پھر تمام بدن اور اعضاء پر اس کا عمل ہوتا ہے اور سارے جسم پر محیط ہو جاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ بہشت اور دوزخ اس دنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے۔اور یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ بہشت اور دوزخ اس جسمانی دنیا کی طرح نہیں بلکہ ان دونوں کے مبداء اور منبع روحانی امور ہیں۔ہاں یہ سچی بات ہے کہ عالم معاد میں وہ جسمانی شکل پر ضرور متشکل ہو کر نظر آئیں گی۔یہ ایک بڑا ضروری مضمون ہے جس پر ساری قوم نے دھوکا کھایا ہے۔اور اس کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کو ئی خدا کا ہی منکر ہو بیٹھا ہے اور کوئی تناسخ کا قائل ہو گیا ہے ۔کسی نے کچھ تجویز کیا اور کسی نے کچھ۔اگر خدا تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا تو ہمارا ارادہ ہے کہ اس بسط کے ساتھ بڑی بحث کریں۔اس کی مرضی اور تقفیق پر موقوف ہے؛ورنہ ہم تو ایک لفظ بھی بول نہیں سکتے۔‘‘ حیات کی تین اقسام ہیں فرمایا:’’نباتی،حیوانی اور انسانی رتین قسم کی جان مانی گئی ہے بعض حکامء نباتات میں شعور اور حس کے بھی قائل ہیں؛چنانچہ بہت سےاس قسم کے پودے اور درخت پائے گئے ہیں جن پر مختلف امور اثر کرتے ہیں۔مثلاًچھوئی موئی کا درخت۔جب انسان اس کو ہاتھ لگاتا ہے فوراً مرجھا جاتی ہے۔اور اسی قسم کے بہت سے ایسے درخت ہوتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ہر ایک چیز میں ایک برزخ رکھا ہوا ہے۔نباتات اور حیوانات کے درمیان وہ نباتات جن میں حس شعقر ہے وہ برزخ ہیں جو بہت بڑا حصہ انسانی عقول کا رکھتے ہیں۔اسی برزخ کے نہ سمجھنے سے بعض کو یہ دھوکا لگا ہے کہ انسان بندر سے ترقی کر کے انسان بنا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے ۔یہ تمام برزخ جو مخلوقات میں موجود ہیں وہ حدت خلقی کی دلیل ہونے ی وجہ سے خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہیں اور افسوس ہے کہ نا واقف اور نا اہل اس سے کوئی لطف نہیں اٹاھ سکتے۔ بچہ جب بننے لگتا ہے تو ساری چیزیں اکٹھی ہی بنتی ہیں۔جیسا کہ قراان مجید میں پیدائش انسان کا مفصل ذکر ہے۔بعض لوگوں کی سمجھ میں جب اس کی حقیقت نہ آئی؛تو اعتراض کر دیا،مگر مشاہدہ سے یہی ثابت ہوا ہے ۔چنانچہ میں نے ایک بار ایک انڈے کو توڑا اور اس کو ایک برتن میں ڈال دیا ۔میں اس کے وسط میں ایک نقطہ دیکھتا ہوں۔جو دل کی حرکت کی طرح حرکت کرتا ہے اور میں نے نہایت غور کے ساتھ جو دیکھا تو اس نقطہ سے مختلف جہات میں کچھ خطوط سے ہو گئے ہیں۔کوئی ان میں دماغ کی طرف تھا کوئی جگر کی طرف وغیرہ۔