عشق خدا وندی کی۔اللہ تعالیٰ ہی کی موہبت اور فیض سے پیدا ہو جاتی ہے کہ سارے کا سارا وجود اس محبت اور سرار سے جو اس کا نتیجہ ہوتا ہے ،لبالب پیالہ کی طرح بھر جاتا ہے اور انوار الہی اس کے دل پر بکلی احاطہ کر لیتے ہیں اور ہر قسم کی ظلمت اور تنگی قبض دور کر دیتے ہیں۔اس حالت میں تمام مصائب اور مشکلات بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں ان کے لئے آتی ہیں۔وہ انہیں ایک لحظہ کے لئے پرا گندہ دل اور منقبض خاطر نہیں لا سکتے۔بلکہ وہ بجائے خود محسوس اللذات ہوتے ہیں۔ یہ ایما ن کا آخری درجہ ہے۔ بہشت اور دوزخ کی حقیقت ایمان کے انواع اولیاء بھی سات ہیں اور ایک اور آخری درجہ ہے جو موہبت الہی سے عطا کیا جاتا ہے۔اس لئے بہشت کے بھی سات ہی دروازے ہیں۔اور آٹھواں دروازہ فضل کے ساتھ کھلتا ہے۔غرض یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بہشت اور دوزخ اس جہان میں موجود ہوں گی،وہ کوئی نئی بہشت اور دوزخ نہ ہو گی۔بلکہ انسان کے اعمال اور ایمان کا وہ ایک ظل ہیں۔اور ایہی اس کی سچی فلاسفی ہے۔وہ کوئی ایسی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان وک ملے گی،بلکہ انسان کے اندر سے ہی وہ نکلتی ہے۔مومن کے لئے ہر حال ہیں اس دنیا میںیاک بہشت موجود ہوتا ہے۔اس عالم کا بہشت عالم موجود دوسرے عالم میں اس کے لئے بہشت موعود کا حکم رکھتا ہے۔پس یہ کیسی سچی اور صاف بات ہے کہ ہر ایک کا بہشت اس کا ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔جن کی اس دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور یہی ایمان اور اعمال دوسرے رنگ میں باغ اور نہریں دکھائی دیتی ہیں۔میں سچ کہتا ہوں اور اہنے تجربے سے کہتا ہو ں کہ اس دنیا میں باغ اور نہریں نظر آتی ہیں۔اور دوسرے عالم میں بھی باغ اور نہریں کھلے طور پر محسوس ہوں گی۔اسی طرح پر جہنم بھی انسان کے بے ایمان اور بد اعمالی کا نتیجہ ہے ۔جیسے جنت میں انگور اور انار وغیرہ پا ک درختوں کی مثالیں ہیں،ویسے ہی جہنم میں زقوم کے درخت کا وجود بتایا گیا ہے۔۔اور جیسے بہشت میں نہریں،سلسبیل اور زنجیلی اور کافوری نہریں ہوں گی۔اسی طرح جہنم میں گرم انی اور پیپ کی نہریں بتائی گئی ہیں۔ان پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایمان منکسر المزاج اور اپنی رائے وک چھوڑ دینے سے پیدا ہوتا ہے ۔اسی طرح بے ایمانی اور تکبر اور انانیت سے پیداہو تی ہے۔اس لئے اس کے نتیجہ میں زقوم کا درخت دوزخ میں ہوا اور وہ بس اعمالیاں اور شوخیاں جو اس تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتی ہے وہ ہی کھولتا ہوا پانی یا پیپ ہو گی۔جو دوزخیوں کو ملے گی۔ اب یہ کیسی صاف بات ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اس دنیا سے شروع ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی زندگی بھی انسان یہان ہی سے لے کر جاتا ہے۔جیسا کہ دوزخ کے باب میں فرمایا نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ(الھمزۃ:۷،۸)یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو اللہ تعالیٰ کا غضب اس کا منبع ہے اور وہ گناہ سے پیدا ہو تی ہے اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آگ کی جڑ وہ ہموم وغموم اور