اولون کا لفظ صاف بتایا جاتا ہے کہ اب زمانہ ترقی کرے گا ۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سونٹے کا سانپ بنا کر دکھاتے تو بھلا وہ کب موثر ہو سکتا تھا ۔اس قسم کے نشانات تو ابتدائے زمانہ میں کام آنے والے تھے ۔جیسے ایک چھوٹے بچے کے لئے پاجامہ سیا گیا ہو ،وہ اس کے بالغ ہونے پر کب کام آسکتا ہے۔اسی طرح پر وہ زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زمانہ تھا ،اس قسم کے نشانات کا محتاج نہیں تھا بلکہ اس میں بہت ہی اعلیٰ درجہ کے خوارق کی ضرورت تھی۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی لالہ علیہ والہ وسلم کے نشانات اپنے اندر ایک علمی سلسلہ رکھتے ہیں۔‘‘؎۱ ۱۳؍نومبر۱۹۰۱؁ء ایمان کی حقیقت اور اثرات کمال کے درجے کو نہ پہنچا ہوا ہو ۔اور ابھی شکوک اور شبہات سے ایک جنگ شروع ہو ۔پس اسی حالت میں جو شخص تصدیقی قلبی اور تصدیق لسانی سے کام لیتا ہے۔وہ مومن ہے اور حضرت احدیت میں اس کا نام راستباز اور صادق رکھا جاتا ہے اور اس کے اسی فعل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے موہبت کے طور پر معرفت تامہ کے مراتب اس پر کھولے جاتے ہیں اور اصل بہشت اسی ایمان سے شروع ہوتا ہے؛چنانچہ قرآن شریف نے جہاں بہشت کا تذکرہ فرمایا ہے وہاں پہلے ایمان کا تذکرہ کیا ہے ۔اور پھر اعمال صالح کا اور اعمال صالح کی جزا جنت تجری من تحتہا الانہار(البقرہ:۲۶)کہا ہے ۔یعنی ایمان کی جزا جنت اور اس جنت کو ہمیشہ سر سبز رکھنے کے لئے چونکہ نہروں کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ نہریں اعمال صالحہ کا نتیجہ ہیں۔اور اصل حقیقت یہی ہے کہ وہ اعمال صالحہ اس دوسرے جہان میں انہار جاریہ کے رنگ میں متمثل ہو جائیں گے۔ دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر انسان اعمال صالحہ میں ترقی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی نا فرمانیوں سے بچتا ہے اور سر کشی اور حداد اللہ سے اعتدا کرنے کو چھوڑتا ہے ،اسی قدر ایمان اس کا بڑھتا ہے اور ہر جدید عمل صالح پر اس کے اطمینان میں ایک رسوخ اور دل میں ایک قوت ااجاتی ہے ۔خدا کی معرفت میں اسے لذت آنے لگتی ہے اور پھر یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ مومن کے دل میں ایک ایسی کیفیت محبت الہی،