فوراً یہ آیت گزری وکنتم علی شفا حفرۃ من النارفانقذکم منھا کذلک یبین اللہ لکم آیتہ لعلکم تھتدون(آل عمران:۱۰۴)ابراہیم کا جب پانی ختم ہو چکا تھا تو اسماعیل قریب المرگ ہو گیا۔اس وقت خدا نے اسے بچا لیا اور ایک اور کنواں پانی کا اسے دے دیا گیا عرب والے بھی اسما عیل کی اولاد ہونے کی وجہ سے گویا اسما عیل ہی تھے ۔جب ہدا یت اور شریعت کا ان میں خاتمہ ہو گیا اور قریب المرگ ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ایک نئی شریعت ان پر نازل کی اور اس آیت میں اشارہ ہے غرض یہ پیش گوئی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں کی۔‘‘؎۱ ۴؍نومبر۱۹۰۱؁ء المسیح الدجال کی حقیقت فرمایا:’’اصل بات یہ ہے کہ دجال بھی حضرت مسیح کی طرح ایک موعود ہے۔اس کا نام المسیح الدجال ہے۔سورۃ تحریم میں جیسے مسیح موعود کے لئے بشارت اور نقص موجود ہے۔اسی نص سے بطور اشارۃ النص کے دجال کے وجود پر ایک دلیل لطیف قائم ہوتی ہے۔یعنی جیسے مریم میںنفخ روح سے ایک مسیح پیدا ہو ا۔اسی طرح اس کے مقابل ایک خبیث وجود کا ہونا ضروری ہے جس میں روح القدس کی بجائے خبیث روح کا نفخ ہوا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے بعض عورتوںکو رجا کی بیماری ہوتی ہے اور وہ خیالی طور پر اس کو حمل ہی سمجھتی ہیں،یہان تک کہ حاملہ عورتوں کی طرح سارے لوازم ان کو پیش آتے ہیں اور چوتھے مہینے حرکت بھی محسوس ہوتی ہے مگر آخر کو کچھ بھی نہیں نکلتا ۔اسی طرح پر مسیح الدجال کے متعلق خیالات کا ایک بت بنایا گیا ہے اور وقت واہمہ نے اس کا ایک وجود خلق کر لیا ہے ۔جو آخر کار ان لوگوں کے اعتقاد میں ایک خارجی وجوہ کی صورت میں نظر آیا۔المسیح الدجال کی حقیقت تو یہ ہے ۔‘‘ ۵؍نومبر ۱۹۰۱؁ء آنحضرت ؐ کے نشانات [نشانات کے متعلق آج صبح کی سیر میں یہ ذکر تھا کما ارسل لاولون ( الانبیائ:۶)والی آیت پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نشانات آپ کے زمانے میں غیر مفید تھے۔اس کے متعلق شام کو پھر فرمایا کہ: