مومن کا کمال تو یہ ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کا علم دوسروں کو بھی ہو بلکہ بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ جب مومن اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدت ارتباط اور محبت کی وجہ سے گوشہ نشینی میں اپنی مناجات کر رہا ہو اس وقت اسے کوئی دیکھ لے تو وہ اس سے زیادہ شرمندہ ہوتا ہے ۔جیسے کوئی زنا کار عین زنا کاری کے وقت پکڑا جاتا ہے ۔پس ریا سے بچنا چاہیے ۔اور اپنے ہر قول و فعل کو اس سے محفوظ رکھنا چاہیے۔‘‘؎۱ ۴؍نومبر ۱۹۰۱؁ء [آج پھر حسب معمول حضرت اقدس ؑ سیر کو نکلے۔اکثر احباب حضور کے ہمراہ تھے۔انگریزی رسالہ کا ذکر ہو رہا تھا۔اسی سلسلہ میں فرمایا:] ’’میں یقین کرتا ہوں کہ جس قدر میرا وقت گزرتا ہے وہ سب عبادت ہی ہے اس لئے کہ اگر کوئی نماز پڑھتا ہے وہ چار رکعت تو اس میں دل حاضر ہوتا ہے کچھ غیر حاضر۔مگر جس کام میں میں لگا ہوا ہوں اس کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو قائم کرنا ہے۔پھر سارا وقت حضور قلب میسر رہتا ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کہ میں شام تک دوچار لطیف باتیں حاصل نہ کر لوں۔‘‘ بائبل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق ایک پیشگوئی رات بہت بڑی گزر گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک پیش گوئی کی طرف جو تورایت میں ہے اور آج تک کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں کی مگر خدا نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا پس اسی وقت میں نے تورایت کو نکالا اور اس کو دیکھا جو لوگ علوم الہیہ اور اس کے استعارات سے دل چسپی رکھتے ہیں۔ان کو بے شک اس میں مزا آئے گا مگر جو حقائق سے حصہ نہیں رکھتے وہ اس پر ہنسی کریں گے۔ وہ پیش گوئی اس طرح پر ہے کہ تورایت میں لکھا ہے کہ جب ہاجرہ کو اور اسماعیل کو حضرت ابراہیم ؑ چھوڑ آئے تو ان کے پاس ایک پانی کی مشک دے کر چھوڑ آئے جب وہ ختم ہو ئی تو حضرت اسماعیل پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے اور قریب المرگ ہو گئے،تو حضرت ہاجرہ ان کی اس حالت کو دیکھ نہ سکیں اور کچھ فاصلے پر جا بیٹی۔وہاں لکھا ہے کہ تیر کے ٹپے پر اس وقت حضرت ہاجرہ چلائی اور خدا کے فرشتے نے اس کو پکارا اور کہا کہ اے ہاجرہ مت ڈر۔اٹھ لڑکے کو اٹھا ۔غرض پھر ہاجرہ کو ایک کنواں نظر آیا ۔جہاں سے اس نے مشک بھری۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ فرشتہ نے ہاجرہ کو جو کنواں دکھایا تھا۔اس میں ایک پیش گوئی تھی۔اس پر میرے دل میں