ابن مریم نہیں بولتے بلکہ بعض تو برا سمجھتے ہیں۔ان کے ہاں یسوع ہے ۔عبرانی میں عین نہیں بولتے۔یسو کہتے ہیں اور قراان کریم نے کہیں یسو کا تزکرہ نہیں کیا کیا انجیل پر کہیں یہ لفظ نہیں بولا گیا ۔اس پر جب یہ اایت پیش کی گئی کہ مسیح نے کہا ہے کہ انی عبد اللہ اتنی الکتاب (مریم:۳۱)تو اس کی لطیف تشریح فرمائی۔اٰتنی الکتاب سے مراد فہم کتاب ہے۔
۳؍نومبر۱۹۰۱ء
دعا کے اصول
[حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے نکلے سیٹھ احمد دین ساحب بھی ساتھ تھے ۔مولوی برہان الدیں صاحب نے عرض کیا کہ سیٹھ صاحب کا ایک لڑا ہوا تھاوہ فوت ہو چکا ہے ۔حضور دعا کریں۔]
فرمایا:’’ہاں میں دعا کروں گا مگر ساری باتیں ایمان پر منحصر ہیں۔ایمان جس قدر قویٰ ہو اسی قدر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے۔اس کے سوا چونکہ ہم تو علیم نہیں اور نہ اپنی ضرورتوں کے نتائج سے آگاہ ہیں اس لئے بعض وقت ایئسی چیزیں مانگ لیتے ہیں جو ہمارے لئے مضر ہوتی ہیں پس وہ دعا تو قبول کر لیتا ہے اور جو دعا کرنے کے واسطے مفید ہوتا ہے وہ اسے عطا کرتا ہے ۔جیسے ایک زمین دار کسی بادشاہ سے ایک اعلیٰ درجہ کا گھوڑ امانگے اور بادشاہ اس کی ضرورت وک سمجھ کر عمدہ بیل دے دے۔تو اس کے لئے وہی مناسب ہو سکتا ہے۔دیکھو ماں بھی تو بچے کی ہر خواہش کو پورا نہیں کرتی۔اگر وہ سانپ یا ٓگ کو لینا چاہے تو کب دیتی ہے؟پس خدا تعالیٰ سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور تقویٰ اور ایمان میں ترقی کرنی چاہیے۔‘‘
ریا
فرمایا:’’ریا کی رفتار بہت دھیمی ہوتی ہے اور وہ چیونٹی سے بھی باریک چلتی ہے۔ہر تحسین اور توہین میں ریا کا ایک شعبہ ہوتا ہے ۔یہں تک کہ مومن کو چاہیے اگر کسی طرف سےکوئی نیکی اور فائدہ پہنچے اھر وہ اس کی تحسین سے پہلے خدا کی تعریف نہیں کرتا تو یہ بھی ریا میں داخل ہے۔ایسا ہی کسی تکلیف یا بدی کے وقت ضروری ہے کہ خدا کی حکمت کو مد نظر رکھے۔