جسمانی اور روحانی خوارق
(علاوہ ازیں )تورایت اور قرآن میں یہ بھی ایک فرق عظیم ہے کہ قرآن جسمانی اور روحانی خوارق ہر قسم کے اپنے اندر رکھتا ہے۔مثلاً شق القمر کا معجزہ جسمانی معجزات کی قسم ہے۔
قانون قدرت کی تحدید نہیں ہو سکتی
بعض نادان شق القمر کے معجزے پر قانون قدرت کی آڑ میں چھپ کر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کو اتنا معلوم نہیںکہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور قوانین کا احاطہ اور اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ایک وقت تو وہ منہ سے خدا بولتے ہیں،لیکن دوسرے وقت چہ جائیکہ ان کے دل،ان کی روح خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان اور وراء الو راء قدرتوں کو دیکھ کر سجدہ میں گر پڑے۔اسے مطلق بھول جاتے ہیں۔اگر خدا کی ہستی اور بساط یہی ہے کہ اس کی قدرتیں اور طاقتیں ہمارے ہی خیالات اور اندازہ تک محدود ہیں ،تو پھر دعا کی کیا ضرورت رہی؟لیکن نہیں۔میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور ارادوں کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا ۔ایسا انسان جو یہ دعویٰ کرے،وہ خدا کا منکر ہے۔لیکن کس قدر واویلا ہے اس نادان پر جو اللہ تعالیٰ کو لا محدود قدرتوں کا مالک سمجھ کر بھی یہ کہے کہ شق القمر کا معجزہ قانون قدرت کے خلاف ہے۔سمجھ لو کہ ایسا آدمی فکر سلیم اور دور اندیش دل سے بہرہ مند نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ کبھی قانون قدرت پر بھروسہ نہ کرلو۔یعنی کہیںقانون قدرت کی حد نہ ٹھہرا لوکہ بس خدا کی خدائی کا سارا راز یہی ہے۔پھر تو سارا تاروپود کھل گیا۔نہیں۔اس قسم کی دلیری اور جسارت نہ کرنی چاہیے۔جو انسان کو عبودیت کت درجہ سے گرا دے۔جس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ایسی بے وقوفی اور حماقت کہ خدا کی قدرتوں کو محصور اور محدود کرنا۔کسی مومن سے نہیں ہو سکتی۔امام فخر الدین رازی کا یہ قول بہت درست ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کو عقل کے پیمانے سے اندازہ کرنے کا ارادہ کرے گا ،وہ بے وقوف ہے۔دیکھو نطفہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔یہ لفظ کہہ دینے آسان اور بالکل آسان ہیں اور یہ بالکل معمولی سی بات نظر آتی ہے،مگر یہ ایک سر اور راز ہے کہ ایک قطرہ آب سے انسان کو پیدا کرتا ہے اور اس میںاس قسم کے قویٰ رکھ دیتا ہے۔کیا کسی عقل کی طاقت ہے کہ وہ اس کی کیفیت اور کنہ تک پہنچے۔طبیعیوں اور فلاسفروں نے بہتیرا زور مارا،لیکن وہ اس کی ماہیت پر اطلاع نہ پا سکے۔اسی طرح ایک ایک ذرہ خدا تعالیٰ کے تابع ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ یہ ظاہری نظام بھی اسی طرح رہے اور ایک خارق عادت امربھی ظاہر ہو جاوے۔عارف لوگ ان کیفیتوں کو خوب دیکھتے اور ان سے حظ اٹھاتے ہیں ۔بعض لوگ ایک ادنیٰ ادنیٰ اور معمولی باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیںاور شک میں پڑ جاتے ہیں۔مثلاً ابراہیم ؑ کو آگ نے نہیں جلایا۔یہ امر بھی ایسا ہے جیسا شق القمر کے متعلق۔ خدا خوب جانتا ہے کہ اس حد تک آگ جلاتی ہے اور ان اسباب کے پیدا ہونے سے فرو ہو جاتی ہے۔اگر ایسا مصالحہ ظاہر ہو جاوے یا بتلا دیا جاوے،تو فی الفور مان لیں گے۔لیکن ایسی صورت میں ایمان بالغیب اورحسن ظن کا لطف اور خوبی کیا ظاہر ہو گ۔ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا خلق اسباب نہیں کرتا،مگر بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں کہ نظر آتے ہیں اور بعض اسباب نظر