’’میں یہ سارے اعتراض جمع کر کے خود حضرت مسیح کی طرف سے جواب دوںگا اور ساتھ ساتھ نبی کریم کا مقابلہ بھی مسیح سے کرتا جاوں گا۔‘‘ اس کے بعد مفتی صاحب نے وہ اعتراض پڑھ کر سنائے جو فری تھنکروں اور یہودیوںنے حضرت مسیح پر کئے ہیں۔زاں بعد مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب کا کچھ حصہ سنایا پھر عشاء ہوئی۔؎۱ ۲؍نومبر۱۹۰۱؁ء ابن صیاد فرمایا:’’مجھے تعجب ہے کہ بے چارے ابن صیاد پر یہ ظلم کیا جاتا ہے کہ خدا نخواستہ اسے دجال بنایا جاتا ہے حالانکہ ساری عمر اس سے کوئی شرارت ظاہر نہیں ہوئی۔بلکہ اس نے مسلمان ہو کر اپنی جان دے دی اور شہید ہوا اور حج کیا ،مجھے تو یہ ظلم نظر ااتا ہے اور اس لئے وہ اس قابل ہے کہ اسی رضہ اللہ کہا جائے یہ صرف بلا سوچے سمجھے مورد اعتراض ٹھہرایا گیا ہے۔‘‘ [اس پر حجرت مولوی نور الدین صاحب نے فرمایا کہ حجور!رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہودیوں کو مدینہ سے نکال دیا اور بعض کو قتل بھی کیا گیا،مگر ابن صیاد کو ااپ نے نہیں نکالا۔اگر وہ ایسا ہی دجال تھا جیسا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں تو اسے کیوں چھوڑا؟] پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ: ’’حقیقت میں یہ اعتراض بہت صحیح ہے اور اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے میری رائے یہی ہے کہ وہ ایک سچا مسلمان تھا۔اس نے رسول پاک صلی لالہ علیہ والہ وسلم کی تصدیق نبی الامین کہہ کر کی اور اس کی ماں بھی معلوم ہوتا ہے۔مسلمان تھی یہ حضرت ابن صیاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ مظلوم ہیں۔‘‘ ۳؍نومبر۱۹۰۱؁ء عیسیٰ اور یسوع میں فرق حسب معمول بیٹھتے ہی حضرت مسیح کا تزکرہ شروع ہو گیا ۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضو ر عیسیٰ اور یسوع میں فرق کیا ہے عیسائی کبھی عیسائی