یکم نومبر ۱۹۰۱؁ء بروز جمعۃ المبارک حضرت عیسیٰ اور مریم علیہما السلام کی تطہیر [حضرت اقدس جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام بعد نماز مغرب حسب معمول بیٹھ گئے۔ارد گرد خدام ارادت مندی کے ساتھ حلقہ باندھے بیٹھے تھے۔آپ نے کل کے سلسلہ گفتگو میں فرمایا۔کہ: ’’مسیح ؑ کی شان میں جس قدر اطراء کیا گیا ہے اور پھر جس قدر ان پر حملے کر کے ان کو گرایا گیا ہے ۔میں ان دونوں پہلؤں کو صاف کر کے مسیح علیہ السلام کی شان کو اعتدال پر لانا چاہتا ہوں اور جو کچھ وہ تھے اس سے دنیا کو اطلاع دینا بھی میرا کام ہے۔آج میں اس پر بہت غور کرتا رہا ہوں کہ عیسائیون نے جو مسیح کو خدا بناتے ہیں باوجود خدا بنانے کے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے اور باتون کے علاوہ ایک نئی بات مجھے معلوم ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ۔ تاریخ سے معلوم ہوا ہے کہ جس یوسف کے ساتھ حضرت مریم کی شادی ہوئی اس کی ایک بیوی پہلے بھی موجود تھی۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ یہودیون نے تو پنی شرورت سے اور حد سے بڑھی ہوئی شوخی سے حضرت مسیح کی پیدائش کو ناجائز قرار دیا ہے۔اور انہون نے یہ ظلم پر ظلم کیا کہ تارکہ اور نزر دی ہو ئی لڑکی کو اپنی شریعت کے خلاف نکاح کیا۔اور پھر حمل میں نکاح کیا۔اس طرح انہوں نے شریعت موسوسی کی توہین کی اور اب ایں حضرت مسیح کی پاک پیدائش پر نکتہ چینیاں کیں جس کو ہم سن بھی نہیں سکتے۔ان کے مقابلہ میں عیسائیوں نے کیا کیا عیسائیوں نے تو حضرت مسیح کی پیدائش کو تو بے شک اعتقادی طور پر روح القدس کی پیدائش قرار دیا اور خود خدا ہی کو مریم کے پیٹ سے پیدا کیا ،مگر تعداد ازواج کو ناجائز کہہ کر وہی اعتراض اس شکل میں حضرت مریم کی اولاد پر کر لیا اور اس طرح پر خود مسیح اور ان کے دوسرے بھائیوں کی پیدائش پر حملہ کیا۔ واقعی عیسائیوں نے تعدد ازواج کے مسئلہ پر اعتراض کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ہم تو حجرت مسیح کی شان بہت بڑی سمجھتے ہیں اور اسے سچا اور خدا کا برگزیدہ نبی مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ آپ کی پیدائش باپ کے بدوں خدا تعالیٰ کی قدرت کا نمونی تھی۔اور حضرت مریم صدیقہ تھیں۔یہ قراان کریم کا احسان ہے حجرت مریم اور حضرت مسیح پر جو ان کی تطہیر کرتا ہے ۔اور پھر یہ احسان ہے اس زمانے کے موعود امام کا کہ اس نے از سر نو اس کی تطہیر کی تجدید فرمائی۔‘‘] اس پرت حضرت مولانہ عبدالکریم صاحب نے فرمایا اللہھم صل علی محمد واعلی ال محمد لا ریب ’’امہات المومنین‘‘کا عجیب جواب ہے اور رسول پاک صلی الہ علیہ والہ وسلم کی توہیں کا انتقام۔ اس کے بعد پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ: