اپنے رابطے کے ایسے شدید اور گاڑھا تعلق ہونے پر کوئی دوسرا آج زمین پر ویسا نہیں۔اپنی دعاوں کی قبولیت پر کچھ فرماتے رہے۔پھر مرزا خدا بخش صاحب ابو لعطاء کی کتاب’’عسل مصفیٰ‘‘سننے لگے۔اور اس کے ضمن میں المسیح الدجل پر ایک جوش اور لطیف تقریر فرمائی جو بالکل اچھوتی اور نئی تھی اور کسی تحریر میں ابھی تک نہیں آئی تھی،یہ وہ تقریر ہے جو دجال کی حقیقت اور اس کے خاص پتلے کو ہر ایک کے سامنے کر دیا جائے گا۔کوئی ہی ایسا بد بخت ہو ئے گا جو اس کے بعد بھی منکر رہے۔‘‘؎۱ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۱؁ء فونو گراف کے ذریعہ تبلیغ [حضرت اقدس حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ میں فونو گراف کی ایجاد اوراس سے اپنی تقریر کو مختلف مقامات پر پہناچنے کا تذکرہ ہوتا رہا؛چانچہ یہ تجویز کی گئی کہ اس میں حضرت اقدس کی ایکتقریر عربی زبان میں بند ہو جو چار گھنٹے تک جاری رہے۔اور اس تقیر سے پہلے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی ایک تقریر پر ایک انٹر وڈ کٹری نوت کے طور پر جس کا مضمون اس قسم کو ہو کہ انیسویں صدی کے مسیحی کے سب سے بڑے انسان کی تقریر آپ کو سنائی جاتی ہے۔جس نے خدا کی طرف سے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کے دلائل اس کے پاس کیا ہیں۔اس قسم کی ایک تقیر کے بعد پھر حجرت اقدس کی تقریر پو گی اور جہاں جہاں یہ لوگ جائیں اسے کھول کر سناتے پھریں۔ سیر سے تشریف لا کر حضرت اقدس نے قاضی یوسف علی صاحب نعمانی کو دیکھا اور اندر تشریف لے گئے۔پھر ظہر کے وقت تشریف لائے ،نمازیں جمع ہوئیں۔آج اتفاق سے ڈاک میں حکیم محمد اجمل خانصاحب دہلوی کا خط اور حاذق الملک میموریل فنڈ کے کاغذات ااپ کے پاس پہنچے۔حجور نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تبلیغ کا ارادہ ظاہر فرمایا۔جناب کو فرصت ہو گی تو اس پر ایک خط کو لکھیں گے جو الحکم میں طبع ہو گا۔؎۲