کے لئے نمازیں جمع کی جاویں گی۔ تو یہ عظیم الشان پیش گوئی پوری ہو رہی ہے۔میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریون میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں،پھر بھی آجکل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی دیر تک بیٹھا س کام کو کرتا ہوں ؛حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔لیکن میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔چونک دن چھوتے چھوٹے ہوتے ہیں اور دن کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ دن کدھر گیا ہے ۔اسی وقت خبر ہوتیء ہے جب شام کی نماز کے لئے وضو کرنے کے واسطے پانی کا لوٹا رکھ دیا جاتا ہے۔اس وقت مجھے افسوس ہوتا ہیکہ کاش اتنا دن اور ہوتا ؛حالانکہ اسہال کی بیماری ہے اور دن میں کئی بار دست آتے ہیں ،مگر جب پاخانہ کی حاجت بھی ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی اور ایسا ہی روٹی کے لئے جب کئی بات کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہون ۔بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہون کہ مجھے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔پس یہ کام بہت ضروری ہے اور خدا چاہے تو ایک نشان اور بھی ہو گا جس کی نظیر لانے میں کوئی بھی قادر نہ ہو گا۔‘‘ [ناظرین!حضرت اقدس کے اس جوش کا کسی قدر پتہ ان الفاظ سے مل سکتا ہے جو آپ کے اعلائے کلمۃ الاسلام کے لئے حق نے عطا فرمایا ہے۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس دھن میں ہیں اور وہ کس خیال میں پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمانے لگے کہ:] ’’اگرچہ یہ کتاب بظاہر کوئی عیب اور اعجاز نظر نہ ااتہ ہو ،مگر اس کی اشاعت پر دنیا کو معلوم ہو جائے گا ۔جب ہم نے مہو تسو کے لئے مضمون لکھنا شروع کیا تو ہمارے ایک دوست نے اپنے خیال کے موافق کچھ خوشی طاہر نہ کی۔مگر خدا تعالیٰ نے الہاماً خوشخبری دی کہ وہ مضمون بالا رہا؛چنانچہ یہ اشتہار جلسہ سے پہلے ہی شائع کر دیا گیا۔آخر جب ہو جلسہ میں پڑھا گیا تو اس کی عظمت اور اس کے حقائق کو سب نے تسلیم کر لیا ۔یہان تک کہ لاہور کہ انگریزی اور اردو اخبا رات نے اس کے بالا رہنے کا عتراف کیا ۔اسی طرھ پر جب یہ کتان شائع ہو کر باہر نکلے گی ،تب پتہ لگے گا ۔میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لئے کہا کہ جب مین عطارد کی دکان پر گیا تو جو وہ عطر ہو دکھاتا تھا میں ا کو ہی واپس کر دیتا تھا ۔آخر عطارد نے کہا میاں تم یہاں دکان میں بیٹھے ہو تمہیں پتہ نہیں لگتا ۔جب دکان سے باہر لے کر جاو گے تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہو جائے گی چنانچہ جب وہ عطر لے کر اایا تو اس نے بیان کیا کہ جو گاڑیاں ہم سے پیچھے آتی تھیں ان کے سوار کہتے تھے کہ کس کے پاس عطر ہے گویا اس کی اتنی خوشبو تھی۔‘‘ [اس قسم کی باتیں ہو تی رہیں۔اپنے دعویٰ کی صداقت اور اپنے مامور من اللہ ہونے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ