اعجاز المسیح کی تصنیف
’’یہ کتاب جو میں لکھ رہا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان کتان ہو گی چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہوئی ہے کہ
اجیب کلدعا ئک الا فی شر کا ئک ۔اس لئے مجھے پورا بھروسہ اور یقین ہے کہ میری دعائیں کل دنیا سے زیادہ قبول ہوتی ہیں اور اس لئے یہ کتاب ایک نشان ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا ۔ہماری جماعت کے ہاتھ میں یہ ایک زبردست نشان ہو گا۔میں عربوں کے دعویٰ ادب وفصاحت وبلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں۔یہ لوھ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے ااپ کو اہل زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں ،وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں ۔ان کے قلم توڑ دئے جاویں گے۔اور ان میں کچھ طاقت ہے تو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر مقابلہ کریں پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ نہ واقف کہا کرتے ہیں۔کہ عربوں کا ہزار ہا کے نوٹ دے کر کتابیں لکھائی جاتی ہیں۔اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے ،جو ایسی فصیح وبلیغ کتاب اور ایسے حقائق ومعارف سے پر لکھ سکتا ہے ،جو یہ کتابیں ادب وانشاء کا دعویٰ کرنے والے لکھتے ہیں،ان کی مثال پتھروں کی سی ہے کہ نرم سخت سیاہ سفید پتھر جمع کر کے رکھے جاویں۔مگر یہ تو ایک لذیز اورت شیریں چیز ہے جس میں حقائق اور معارف قرآنی کے اجزاء ترکیب دئے گئے ہیں۔غرض جو بات روح القدس کی تائید سے لکھی جاوے اور جو الفاظ اس کے القاء سے ااتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک حلاوت رکھتے ہیں اور اس حلاقت میں ملی ہوئی شوکت اور قوت ہوتی ہے جو دوسروں کو اس پر قادر نہیں ہونے دیتی۔غرض یہ ایک بہت بڑا نشان ہو گا۔‘‘
پھر اسی سلسلہ کلام میں کہ مسیح کی سوانح پر نکتہ چینیوں کو ہم لکھنا چاہتے ہیں اور یہودی اور فری تھنکروں کے اعتراضوں کا جواب دینا چاہتے ہیں۔فرمایا:
اسی طرز کے اختیار کرنے سے مدعا یہ ہے کہ مسیخ کی خدا باطل کی جائے۔یہ اعتقاد ظلم عظیم ہے اور مجھے تو، خدا کی قدرت ہے کہ شروع سے جبکہ میں ابھی طالب علم ہی تھا اس کی تردید کا ایک جوش خدا نے دے اتھا ۔گویا میری سرشت میں یہ بات رکھ دی تھی ؛چنانچہ جب پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتابیں شائع کیں تو ۱۸۵۹ء یا ۱۸۶۰ء کا ذکر ہے کہ مولوی گل علی شاہ ساحب کے پاس جو ہمارے والد صاحب نے خاص طور پر ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے،پڑھا کرتا تھا اور اس وقت میری عمر سولہ یا سترہ برس کی ہو گی تو اس کا میزالحق دیکھنے میں اائی۔ایک ہندو نے جو میرا ہم مکتب تھا اس کی فارسی دیکھ کر اس کی بڑی تعریف کی ،میں نے اس کو بہت ملزم کیا اور بتایا کہ اسکتاب میں بجز نجاست کے اور کچھ نہیں ہے۔تو نری زبان پر جاتا ہے۔اس وقت سے خدا نے سا جوش میں ترقی کی ہے اور میرے رگ وریشہ میں یہ بات پڑی ہوئی ہے کہ اس افتراء کے پتلے کو تباہ کیا جاوے۔اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ آجکل جو نمازیتں جمع کی جاتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلے سے یہ فرمایا تھا کہ ا س