قرۃ اعین وجعلنا للمتقین اماماً(الفرقان:۷۵)یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ڑھنڈک عطا فرمائے اور تب ہی یہ میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق وفجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں اور ااگے کھول کر کہہ دیا ہے وجعلنا للمتقین اماماًاور اگر اولاد نیک اور متقی ہو تو ان کا امام ہی ہو گا ۔اس سے گویا متقی ہو نے کی بھی دعا ہے۔‘‘؎۱
۳۰؍اکتوبر۱۹۰۱ء
[ابھی مغرب کی اذان نہیں ہوئی تھی کہ حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لائے۔آپ کا چہرہ بشاشت اور مسرت سے پھول کی طرح کھلا ہوا تھا چہرہ سے ایک جلال ٹپکتا تھا۔آتے ہی فرمایا:]
مسیح کی شان میں ایک افراط وتفریط کے خلاف غیرت کا ظہار
’’آج میں نے ایک مضمون لکھنا شروع کیاہے کہ مسیح ؑ کی نسبت بہت بڑا اطرای کیا گیا ہے۔اور ان کی شان میں اتنا لغو کیا گیا ہے کہ معاذ اللہ خدا ہی بنا دیا گیا ہے۔ہم ان کی عزت کرتے ہیں جیسے اور نبیون کی عزت کرتے ہیں اور خدا کا راستباز نبی مانتے ہیں۔مگر اس لغو اور اطراء کو توڑنے کے لئے میں نے تجویز کیا ہے کہ ان کے وہ سارے سوانح یکجائی طور پر پیش کریں۔جو عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب میں پائے جاتے ہیں۔کیونکہ جب تک وہ ساری باتیں جو ان کے انسانیت کے اثبات پر گواہ ناطق ہیں۔پیش نہ کی جاویں۔خیالی طور پر جو کچھ ان کے مراتب میں غلو کیا گیا ہے اس کا ستیصال نہ ہو گا اور یہ جوش خدا تعالیٰ نے مجھے مجھے اس لئے دیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں اس اطراء کا نتیجہ بہت ہی برا ہو گا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تو ہین کی گئی اور خدا تعالیٰ کے جلال وجبروت کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی گئی ۔اس لئے یہ سلسلہ میں سمجھتا ہون کہ بہت مفید ہو گا۔چونکہ انما الاعمال بالنیات ہماری نیت نیک ہے اس لئے وہ واقعات جو ہم اس میں درج کریں گے اس لئے نہیں ہو ں گے کہ خدا نخواستہ ان کی توہین کرتے ہیں،بلکہ صرف اس لئے کہ ان کی انسانیت ان کو دی جائے بلکہ ہم ان اعتراضوں کو جو یہودیوں اور فری تھینکروں نے ان پر کئے ہیں۔درج کر کے ان کا جواب دیں گے۔‘‘
[اس ک بعد چونکہ اذان ہو چکی تھی ۔نماز مغرب ادا کی گئی۔بعد نماز مغرب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر اس سلسلہ میں کلام فرمایا:]