ہی نے ان باتون میں التباس کر دیا ہو اور اپنے خیالات ملا دئے ہوں۔اس طرح تو تورایت اور انجیل میں تحریف ہو گئی ہے۔گزشتہ مشائخ کا تو اس میں نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ا کا تو ذکر خیر چاہیے۔انسان وک لازم ہے کہ جس غلطی پر خدا اسے مطلع کرے خود اس میں نہ پڑے۔خدا نے یہی فرمایا ہے کہ شرک نہ کرو اور تمام عقل اور طاقت کے ساتھ خدا کے ہو جاؤ۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا۔من کان للہ کا ن اللہ لہ۔‘‘
حبس دم
سوال:حبس دم کیا ہے؟
جواب:’’یہ بھی ہندو جوگیوں کا مسئلہ ہے۔اسلام میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔‘‘؎۱
۲۱؍ستمبر۱۹۰۱ء
[۲۱؍ستمبر۱۹۰۱ء کی شام کو جبکہ حضرت اقدس امام علیہ الصلوۃ ولسلام حسب معمول مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر احباب کے زمرہ میں تشریف فرما ہوئے تو باتوں ہی باتوں میں کچھ طبعی تحقیقاتوں کا سلسلہ چل پڑا اور ان مغربی تجارب اور تحقیقاتوں کا ذکر ہونے لگا،جو عمل جراحی کے متعلق یورپ وامریکہ والون نے کی ہیں۔اس کے بعد ایک شخص منشی عبد الحق صاحب پٹیالوی نے اپنے ہاں نرینہ اولاد ہونے کے لئے درخواست کی۔اس پر حضر ت اقدس امام عالی مقام نے ایک مختصر لطیف تقریر فرمائی۔جس کو ہم اپنے الفاظ اور طرز میں ادا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:]
اولاد کی خواہش
’’انسان وک سوچنا چاہیے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہو تی ہے؟کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدود نہ کر دینا چاہیے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے،لیکن جب ایک خاص انداز سے گزر جاوے تو ضرور اس کی اسلاح کی فکر کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا۔ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔(ا لذٰریٰت:۵۷)اب اگر انسان خود عبد اور مومن نہیں بنتا اور اپنی زندگی کے اسل منشا ء کو پورا نہیں کرتا ہے اور ہورا حق عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق وفجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے اادمی کو اولاد کے لئے خواہش کیا نتجہ رکھے گی؟صرف یہ کہ وہ گناہ کرنے کے لئے اپنا ایک اور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے۔خود کونسی کمی ہے جو اولاد کی خواہش رکھتا ہے۔پس جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ