دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کے فرماں بردار وہ کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات ستیات رکھنا جائز ہو گا۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہ نہیں میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہے ۔جب تک وہ اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کر لے۔اگر فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میںصالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں،تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذاب ہے۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنا دے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیات صالحات کو مصداق کہیں۔لیکن اگر یہ خواہش ہو کہ صرف میرا نام باقی رہے تو اور وہ ہمارا املاک اسباب کی وارث ہو یا بڑی ہی نامور اور مشہور ہو ۔اس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے۔
نیکی کرنے کا مقصد
یاد رکھو کہ کسی بھی نیکی کو اس لئے نہیں کرنا چاہیے کہ اس نیکی کرنے پر ثواب یا اجر ملے گا۔کیونکہ اگر محض اس خیال سے نیکی کی جائے تو وہ ابتغاء لمرجات اللہنہیں ہو سکتی۔بلکہ اس ثواب کی خاطر ہو گی اور اس سے اندیشہ ہو سکتا ہے کہ وہ اسے کسی وقت چھوڑ بیٹھے۔مثلاً اگر کوئی شخص ہم سے ہر روز ملنے کے واسطے اائے اور ہم اس کو ایک روپیہ دے دیاکریںتو وہ بجائے خود یہی سمجھے گا کہ میرا جانا صرف روپیہ کے لئے ہے۔جس دن سے روپیہ نہ ملے آنا چھوڑ دے گا،غرض یہ ایک قسم کا باریک شرک ہے اس سے بچن اچاہیے ،نیکی و محج اس لئے کرنا چاہیے کہ خد اتعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو ۔قطع نظر اس کے کہ اس پر ثواب ہو یا نہ ہو۔ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جبکہ یہ وسوسہ اور وہم درمیان سے اٹھ جاوے۔اگرچہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین(التوبہ:۱۲۰)مگر نیکی والے کو اجر مد نظر رکھنا چاہیے۔دیکھو اگر کوئی مہمان یہاں اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا۔ٹھنڈے شربت ملیں گے یا تکلف کے کھانے ملیں گے۔تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے ااتا ہے ؛حالانکہ خود میزبان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور اس کی مہمان نوازی