سنت نبوی کی سخت توہین کی ہے ۔کیا رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ ولسم سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں گزرا ہے؟پھر غار حرا میں وہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرتے تھے یا فنا کا طریق آپ نے اختیا ر کیا ہوا تھا؟پھر آپ کی ساری زندگی میں کہیں اس امر کی نظیر نہیں ملتی آپ نے صحابہ کو یہ تعلیم دی ہو کہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرو اور کوئی قلب جاری کرنے والون میں سے پتا نہیں دیتاب اور کبھی نہیں کہتا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ ولسم کا قلب بھی جاری تھا۔یہ تمام طریق جن کا قراان مجید میں ذکر نہیں۔انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا کنتیجہ کچھ بھی نہیں ہوا۔قراان شریف اگر کچھ بتاتا ہے ،تو یہ کہ یوں خدا سے محبت کرو۔اشد حبا للہ کے مصداق بنو۔اور فاتبعونی یحببکم اللہ(آل عمران:۳۲)پر عمل کرو اور ایسی فنا اتم تم پر آجائے کہ تبتل الیہ تبتیلاً(المزمل:۹)کے رنگ سے تم رنگین ہو جاو اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقد م کر لو ۔یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔نادان انسان اپنی عقل اور خیال کے پیمانہ سے کد اکو ماپتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔ پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان خیالات سے بالکل الگ رہو اور وہ طریق اختیار کرو کو خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ ولسم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے طرز عمل سے چابت کر دکھایا کہ اسی پر چل کر انسان دنیا اور آخرت میں فلاح اور فوز حاصل کر سکتا ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم دی۔پھر وقتاً فوقتاً خدا کے بر گزیدوں نے سنت جاریا کی طرح اپنے اعمال سے ثابت کیا اور آج بھی خد انے اسی کو پسند کیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا اصل منشاء یہی ہوتا تو ضرور تھا کہ آج بھی جب اس نے ایک سلسلہ گمشدہ صداقتوں اورحقائق کے زندہ کرنے کے لئے قائم کیا یہی تعلیم دیتا ہے اور میری تعلیم کا منتہا یہی ہوتا ہے۔مگر تم دیکھتے ہو کہ خدا نے ایسی تعلیم نہیں دی ہے ،بلکہ وہ تو قلب سلیم چاہتا ہے وہ محسنوں اور متقیوں کو پیار کرتا ہے۔کہ جن کے قلب جاری ہوں۔ان کا ولی ہوتا ہے۔کیا سارے قرآن میں ایک دفعہ بھی لکھاہوا ہے کہ وہ ان کو پیار کرتا ہے جن کے قلب جاری ہوں۔یقینا سمجھو کہ یہ محض خیالی باتیں اور کھیلیں ہیں جن کا اصلاح نفس اور روحانی امور سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے،بلکہ ایسے کھیل خدا سے بعد کا موجب ہو جاتے ہیں اور انسان کے عملی حصہ میں مضر ثابت ہوتے ہیں،اسی لئے تقویٰ اختیار کرو۔سنت نبوی کی عزت کرو اور اس پر قائم ہو کر دکھاؤ کو قرآن مجید کی تعلیم کا اصل فخر یہی ہے۔‘‘ صوفیاء کا معاملہ سوال:پھر صوفیوں کو کیا غلطی لگی ہے؟ جواب:ان کو بحوالہ خدا کرو۔معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا سمجھااور کہاں سے سمجھا تلک امۃ قد خلت لما ما کسبت(البقرہ:۱۳۵)بعض اوقات لوگوں کو دھوکا لگتا ہے کہ ہو ابتدائی حالت کو انتہائی سمجھ لیتے ہیں۔کیا معلوم کہ انہوںنے ابتدا میں کیا کہا ہو پھر آخر میں چھوڑ دیا ہو یا کسی اور