کی تعلیم میں ایک تو یہی ہے کہ قرآن شریف نے دلائل پیش کیے ہیں جن کو توریت نے مس تک نہیں کیا۔ قرآن شریف اور توریت کی تعلیم میں دوسرا فرق اور دوسرا فرق یہ ہے کہ توراتنے صرف بنی اسرائیل کو مخاطب کیا ہے اور دوسری قوموں سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رکھا۔اور یہی وجہ ہے کہ اس نے دلائل وبراہین پر زور نہیں دیا،کیونکہ توریت کی زیر نظر کوئی دوسرا فرقہ(یا مذہب)مثل دہرایہ، فلاسفیہ اور براہمہ وغیرہ کا نہ تھا،بخلاف اس کی قرآن شریف کے مخاطب چونکہ کل ملل اور فرقے تھے اور اس پر پہنچ کر تمام ضرورتیں ختم ہو گئی تھیں،اس لیے قرآن کریم نے عقائد کو بھی اور احکام عملی کو بھی مدلّل(طور پر بیان)کیا۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتاہے:قل للمومنین یغضوامن ابصارھم و یحفظوا فرو جھم(النور:۳۱)یعنی مومنوں کو کہدے کہ کسی کے ستر کو آنکھ پھاڑ کر نہ دیکھیں اور باقی تمام فروج میں داخل ہیں جو قصص اورفحش باتیں سن فتنہ مین پڑ جاتے ہیں،اس لئے عام طور پر فرمایا کہ تمام موریوں کو محفوظ رکھو اور فضولیات سے بالکل بند رکھوذالک ازکی لھم (النور:۳۱)یہ مومنوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے اور یہ طریق تعلیم ایسی اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے بد کاروں میں نہ ہوں گے۔ قرآن شریف دلائل وبراہین بھی خود ہی بیان کرتا ہے دیکھو! قرآن نے اسی ایک امر کو جو تورایت میں بھی اپنے لفظوں اور اپنے مفہوم پر بیان ہوا ہے۔کیسا شرح وبسط کے ساتھ اور دلائل اور براہین کے ساتھ موکد کر کے بیان فرمایا۔یہی تو قرآنی اعجاز ہے کہ وہ اپنے پیرو کو کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہونے دیتا۔دلائل اور براہین بھی خود ہی بیان کر کے اسے مستغنی کر دیتا ہے۔قرآن شریف نے دلائل کے ساتھ احکام کو لکھا ہے اور ہر حکم کے جدا گانہ دئے ہیں ۔غرض یہ دو بڑے فرق ہیں،جو تورایت اور قرآن میں ہیں۔اول الذکر میں طریق استدلال نہین۔دعویٰ کی دلیل خود تلاش کرنی پڑتی ہے۔آخر الذکر اپنے دعویٰ کو ہر قسم کے دلیل سے مدلل کرتا ہے اور پھر پیش کرتا ہے اور خدا کے احکام کو زبر دستی نہیں منواتا،بلکہ انسان کے منہ سے سر تسلیم خم کرنے کی صدا نکلواتا ہے۔نہ کسی جبرو کراہ سے بالکل اپنے لطیف طریق استدلال سے اور فطری سیادت سے۔توریت کا مخاطب خاص گروہ ہے اور قرآن کے مخاطب کل لوگ جو قیامت تک پیدا ہوں گے۔پھر بتلاو کہ توریت اور قرآن کیوں کر ایک ہو جائیں اور توریت کے ہونے سے کیوں کر ضرورت قرآن نہ پڑے۔قرآن جب کہتا ہے کہ تو زنا نہ کر،تو کُل بنی نوع انسان اس کا مطلب ہوتا ہے لیکن جب یہی لفظ تورایت بولتی ہے،تو اس کا مخاطب اور مشار اِلیہ وہی قوم بنی اسرائیل ہوتی ہے۔اس سے بھی قراان کی فضیلت کا پتہ لگ سکتا ہے،مگر دور اندیش اور خدا ترس دل ہو تو۔