بگاڑ کر بنالیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شرک اور بُت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ ہماری تصویر کی اصل غرض وہی تھی جو ہم نے بیان کردی کہ لنڈن کے لوگوں کو اطلاع ہو اور اس طرح پر ایک اشتہار ہوجاوے۔
قلب جاری ہونے کا مسئلہ
غرض تصورِ شیخ کا مسئلہ ہندوئوں کی ایجاد اورہندوئوں ہی لیاگیا ہے۔چنانچہ قلب جاری ہونے کا مسئلہ بھی ہندوئوں ہی سے لیا گیا
ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی اصل غرض انسان کی پیدائش سے یہ ہوتی ، توپھر اتنی بڑی تعلیم کی کیا ضرورت تھی۔ صرف اجرائے قلب کا مسئلہ بتاکر اس کے طریقے بتادیئے جاتے۔ مجھے ایک شخص نے معتبر روایت کی بنا پر بتایا کہ ہندو کا قلب رام رام پر جاری تھا۔ ایک مسلمان اس کے پاس گیا اس کا قلب بھی رام رام پر جاری ہوگیا۔ یہ دھوکا نہیں کھاناچاہیے۔رام خدا کا نام نہیں ہے۔ دیانند نے بھی اس پر گواہی دی ہے کہ یہ خدا کانام نہیں ہے۔ قلب جاری ہونے کا دراصل ایک کھیل ہے جو سادہ لوح جُہلاکو اپنے دام میں پھنسانے کے لئے کیا جاتاہے۔ اگر لوٹالوٹا کہا جاوے تو اس پر بھی قلب جاری ہوسکتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو تو پھر وہی بولتا ہے۔ یہ تعلیم قرآن نے نہیں دی ہے، بلکہ اس سے بہتر تعلیم دی ہے۔ الامن اتی اللہ بقلب سلیم (الشعرائ:۹۰) خدا یہ چاہتا ہے کہ ساراوجودہی قلب ہوجائے؛ ورنہ اگر وجود سے خدا کا ذکر جاری نہیںہوتا تو ایساقلب قلب نہیں بلکہ کلب ہے۔
خدا یہی چاہتا ہے کہ خدا میں فنا ہوجائو اور اس کے حدُود وشرائع کی عظمت کرو۔ قرآن فنائِ نظریٰ کی تعلیم دیتا ہے۔میں نے آزما کر دیکھا ہے کہ قلب جاری ہونے کی صرف ایک وجہ ہے جس کا نحصار صلاح وتقویٰ پر نہیں ہے۔ایک شخص منٹگمری یا ملتان کے ضلع کا مجھے چیف کورٹ ملا کرتا تھا،اسے اجرائے قلب کی خوب مشق تھی۔پس میرے نزدیک یہ کوئی قابل وقعت بات نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو کوی عزت اور وقعت نہیں دی۔خدا تعالیٰ کا منشاء اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقصد صرف یہ تھا قد افلح من زکھا(الشمس:۱۰)کپڑا جب تک سارا نہ دھویا جائے وہ پاک نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح پر انسان کے جو سارے ارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوئیں جائیں۔کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا ۔اس کے سوا یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا کا سنوارا ہوا بگڑتا نہیں،مگر انسان کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ہم گواہی دیتے ہیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر گواہی دیتے یں کہ جب تک انسان اپنے اندرخدا تعالیٰ کی مرضی اور سنت نبوی کے موافق تبدیلی نہیں کرتا اور پاکیزی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو خوان اس کے قلب سے ہی آواز ااتی ہو ،وہ زہر جو انسان کی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے دور نہیں ہو سکتی۔روحانیت کی نشونما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔جو قلب جاری ہو نے کے شعبدے لئے پھرتے ہیں،انہوں نے