مگر سمجھتے نہیں ۔مثلاًاگرکوئی شخص محض ریاکاری کے لئے نماز پڑھے تو اس کی یہ کوئی مستحسن قراردیں گے؟ سب جانتے ہیں کہ ایسی نماز کافائدہ کچھ نہیں، بلکہ وبالِ جان ہے تو کیا نماز بُری تھی؟ اس کے بداستعمال نے اس کے نتیجہ کوبُرا پیداکیا۔ اسی طرح پرتصویر سے ہماری غرض تو اسلام کی دعوت میں مددلیناتھی۔ جو اہل یورپ کے مذاق پرہوسکتی تھی۔ اس کو تصویر شیخ بنانا اور کچھ سے کچھ کہنا افتراء ہے۔ جو مسلمان ہیں اُن کو اس پرغصہ نہیں آنا چاہیے تھا۔ جو کچھ خدا ور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔ اگر مشائخ کا قول خدا او رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو کالائے بدبریش خاوند۔ تصورِ شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے، لیکن حفظِ مراتب ضروری ہے۔
گرحفظِ مراتب نہ کُنی زِندیقی
پس خداکو خدا کی جگہ۔ رسول کورسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرالو۔ اس سے زیادہ قرآن شریف میں اور کچھ ہیں کہ کونوامع الصادقین (التوبہ:۱۱۹) پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہ کہا گیا کہ تم اُسے ہی سب کچھ سمجھو۔ اور یا قرآن شریف میں یہ حکم ہے۔ ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۲)اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے خدا سمجھ لو، بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ اتباع کا حکم تو دیا ہے، مگر تصورِ شیخ کا حکم قرآن میں نہیں پایا جاتا۔‘‘
تصورِ شیخ
سوال: جوتصورِ شیخ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا نہیں سمجھتے۔
جواب: مانا کہ وہ ایساکہتے ہیں، مگر بت پرستی تو شروع ہی تصورسے ہوتی ہے ۔ بُت پرست بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچاہے۔ پہلے تصور ہی ہوگا۔ پھر یہ سمجھ لیا کہ تصورقائم رکھنے کے لئے بہتر ہے تصویربنالیں اور پھر اس کوترقی دیتے دیتے پتھر اوردھاتوں کے بُت بنانے شروع کردیئے اور اُن کو تصاویرکاقائم مقام بنالیا۔ آخر یہاں تک ترقی کی کہ اُن کی روحانیت کو اوروسیع کرکے ان کو خدا ہی مان لیا۔ اب نِرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرارکرتے ہیں کہ منتر کے ساتھ اُن کو دُرست کرلیتے ہیں اور پرمیشر کا حلُول ان پتھروں میں ہوجاتا ہے۔ اس منتر کا نام انہوں نے آواہن رکھا ہوا ہے۔ مَیں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔ مَیں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو، تو اس نے کہاکہ اس پر آواہن لکھا ہواہے۔ مجھے اس سے کراہت آئی۔ مَیں نے اُسے کہا کہ تُومجھے دکھا۔ جب مَیں نے پھر ہاتھ میں لے دیکھا، تو اس پر لکھا ہواتھا۔ اردت ان استخلف فخلقت ادم۔ اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ کا خلیفہ جو ہوتا ہے، روائے الہٰی کے نیچے ہوتا ہے۔ اسی لیے آدم ؑ کے لیے فرمایا کہ نفخت فیہ من روحی (الحجر:۳۰)اسی طرح پرغلطیاں پیداہوتی گئیں۔ اُصول کو نہ سمجھا۔ کچھ کاکچھ