کی بیویوں کومومنوں کی مائیں قراردیاہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ میری مخالفت اور بغض میں ایسا تجاوز کرتے ہیں کہ مُنہ سے بات کرتے ہوئے اتنابھی نہیں سوچتے کہ اس کا اثر اورنتیجہ کیا ہوگا۔ جن لوگوں نے مسیح موعود کو شناخت کرلیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق اس کی شان کو مان لیا ہے، ان کا ایمان توخودبخود انہیں اس بات کے ماننے پر مجبور کرے گا اور جو آج اعتراض کرتے ہیں یہ اگر رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ہوتے، تب بھی اعتراض کرنے سے باز نہ آتے۔ یہ بات خُوب یادرکھنی چاہیے کہ خدا کامامور جو ہدایت کرتاہے اور رُوحانی اصلاح کا موجب ہوتا ہے وہ درحقیقت باپ سے بھی بڑھ کر ہوتاہے۔ افلاطون حکیم لکھتا ہے کہ باپ تو رُوح کو آسمان سے زمین پرلاتاہے۔ مگر اُستاد زمین سے پھر آسمان پر پہنچاتا ہے۔ باپ کا تعلق توصرف فانی جسم کے ہی ساتھ ہوتا ہے۔ مُرشد اور مُرشد بھی وہ جو خداکی طرف سے ہدایت کے لئے مامور ہوا ہو، اس کا تعلق رُوح سے ہوتا ہے جس کوفنا نہیں ہے۔ پھر جب وُہ روح کی تربیت کرتا ہے اور اس کی رُوحانی تولید کا باعث ہوتاہے تو وہ اگر باپ نہ کہلائے گا ، تو کیا کہلائے گا؟ اصل یہی ہے کہ یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر بھی کچھ توجہ نہیں کرتے ؛ ورنہ اگر ان کو سوچتے اور قرآن کو پڑھتے تویہ مُنکرین میں نہ رہتے۔‘‘ فوٹوبنوانے کی غرض [پھر اعتراض کیا گیا کہ تصویر پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تصورِ شیخ کی غرض سے بنوائی گئی ہے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:] ’’یہ تودُوسرے کی نیت پر حملہ ہے۔ مَیں نے بہت مرتبہ بیان کیا ہے کہ تصویر سے ہماری غرض کیا تھی۔ بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کو بلادِ یورپ خصوصاً لنڈن میں تبلیغ کرنی منظور تھی، لیکن چونکہ یہ لوگ کسی دعوت یا تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتے جب تک داعی کی حالات سے واقف نہ ہوں اوراس کے لیے اُن کے ہاں علم تصویر میں بڑی بھاری ترقی کی گئی ہے۔ وہ کسی شخص کی تصویر اور اس کے خدوخال کو دیکھ کررائے قائم کرلیتے ہیں کہ اس میں راستبازی ، قوتِ قدسی کہاں تک ہے؟ اور ایساہی بہت سے امور کے متعلق انہیں اپنی رائے قائم کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ پس اصل غرض اور نیت ہماری اس سے یہ تھی جس کو ان لوگوں نے جو خواہ نخواہ ہربات میں مخالفت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کو بُرے بُرے پیرایوں میں پیش کیا اور دُنیا کو بہکایا ۔ مَیں کہتاہوں کہ ہماری نیت توتصویر سے صرف اتنی ہی تھی۔ اگر یہ نفسِ تصویر کو ہی بُرا سمجھتے ہیں، تو پھر کوئی سکّہ اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ بہتر ہے کہ آنکھیں بھی نکلوادیں کیونکہ اُن میں بھی اشیاء کا ایک انعکاس ہی ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنانہیں جانتے کہ افعال کی تہ میں نیت کا بھی دخل ہوتا ہے الاعمال بالنیات پڑھتے ہیں۔