تو وُہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے، اور یہ تب ہوتاہے جب کہ کامل توکل ہوجیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتل تھے۔ ویسے ہی کامل متوکل بھی تھے اور یہی وجہ ہے ہ اتنے وجاہت والے اورقوم وقبائل والے سرداروں کی ذرا بھی پروانہیں کی او ران کی مخالفت سے کچھ بھی متاثرنہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خداتعالیٰ کی ذات پر تھا۔ اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اُٹھالیا اورساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔ یہ بڑا نمونہ ہے توکل کا جس کی نظیر دنیامیں نہیں ملتی۔ اس لیے کہ اس میں خدا کو پسند کرکے دنیا کو مخالف بنالیا جاتاہے۔ مگر یہ حالت پیدانہیں ہوتی ، جب تک گویاخدا کو نہ دیکھ لے۔ جب تک یہ اُمید نہ ہوکہ اس کے بعد دُوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے جب یہ امیداور یقین ہوجاتاہے تووہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنالیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنادے گا۔ جائیداد کھودیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خد ا ہی کی رضا کو مقدم کرنا توتبتل ہے اورپھر تبتل اور توکل توام ہیں۔ تبتل کا راز ہے توکل اورتوکل کی شرط ہے تبتل۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔ ۱۴؍ستمبر ۱۹۰۱؁ء بعدمغرب ’’اُمّ المُومِنین‘‘ کے لفظ کااستعمال ’’اُمّ المُومِنین‘‘ کا لفظ جو مسیح موعود ؑ کی بیوی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے اس پربعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سُن کر فرمایا: ’’اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غورکرتے اور اس قسم کے اعتراض صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بناء پر کیے جاتے ہیں؛ ورنہ نبیوں یا ان کے اظلال کی بیویاں اگراُمہات المومنین نہیں ہوتی ہیں توکیا ہوتی ہیں؟ خداتعالیٰ کی سُنت اورقانونِ قدرت کے اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ اُمّ المُومِنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے۔ کہ تم بتائو جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں ہے اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آکر نکاح بھی کرے گا۔ کیا اس کی بیوی کو تم اُمّ المومنین کہو گے یا نہیں؟ مُسلم میں تو مسیح موعود کونبی ہی کہا گیا ہے اور قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام