کے ماتحت انسان ہو۔ پھر اس کو کسی دوسرے کی پرواہ کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کیا کہتا ہے کیا نہیں؟ ابھی اس کے دل میں لوگوں کی حکومت ہے نہ خداکی۔ جب یہ مُشرکانہ خیال دل سے دُورہوجاوے پھر سب کے سب مُردے او رکیڑے سے بھی کمتر اور کمزور نظرآتے ہیں۔ اگر ساری دُنیا مل کر بھی مقابلہ کرنا چاہے تو ممکن نہیں کہ ایساشخص حق کوقبول کرنے سے رُک جائے۔ تبتل تام کا پورا نمونہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے ماموروں میں مشاہدہ کرنا چاہیے کہ وہ کس طرح دُنیاداروں کی مخالفتون کی باوجود پوری بے کسی اور ناتوانی کے پرواہ تک نہیں کرتے۔ اُن کی رفتار اور حالات سے سبق لینا چاہیے۔ بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ ایسے لوگ جو بُرا نہیں کہتے، مگر پورے طور پر اظہار بھی نہیں کرتے محض اس وجہ سے کہ لوگ بُرا کہیں گے، کیا اُن کے پیچھے نماز پڑھ لیں؟ مَیںکہتا ہوں۔ ہرگز نہیں۔ اس لیے کہ ابھی تک اُن کے قبولِ حق کی راہ میں ایک ٹھوکر کا پتھرہے اور وُہ ابھی تک اسی درخت کی شاخ ہیں، جس کا پھل زہریلا اور ہلاک کرنے والا ہے۔ اگر وُہ دُنیا داروں کو اپنامعبود اورقبلہ نہ سمجھتے توان حجابوں کو چیرباہر نکل آتے اور کسی کے لعن طعن کی ذرا بھی پرواہ نہ کرتے اور کوئی خوف شماتت کا انہیں دامنگیرنہ ہوتا، بلکہ وُہ خدا کی طرف دوڑتے۔ پس تم یادرکھو کہ تم ہر کام میں دیکھ لو کہ اس میں خدا راضی ہے یا مخلوقِ خدا ۔ جب تک یہ حالت نہ ہوجاوے کہ خدا کی رضامقدم ہوجاوے اور کوئی شیطان رہزن نہ ہوسکے۔ اس وقت تک ٹھوکر کااندیشہ ہے، لیکن جب دُنیا کی بُرائی بھلائی ہی نہ ہو بلکہ خدا کی خوشنودی اور ناراضگی اس پر اثرکرنے والی ہویہ وہ حالت ہوتی ہے جب انسان ہر قسم کے خوف وحُزن کے مقامات سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں شامل ہوکر پھر اس سے نکل جاتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کا شیطان اس لباس میں ہنوز اس کے ساتھ ہوت اہے۔ لیکن اگر وہ عزم کرلے کہ آئندہ کسی وسوسہ انداز کی بات کو سُنوں گا ہی نہیں۔ تو خدا اسے بچالیتا ہے۔۔۔ٹھوکر لگنے کا عموماً یہی سبب ہوتاہے ہ دُوسرے تعلقات قائم تھے۔اُن کی پرورش کے لئے ضرورت پڑی کہ ادھر سے سُست ہوں۔ سُستی سے اجنبیت پیداہوئی۔ پھر اس سے تکبر اور پھر انکار تک نوبت پہنچی۔ تبتل کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ نہ آپؐ کو کسی کی مَدح کی پَرواہ نہ ذم کی۔ کیا کیا آپؐ کو تکالیف پیش آئیں، مگرکچھ بھی پروانہیں کی۔ کوئی لالچ اورطمع آپؐ کو اس کام سے روک نہ سکا جوآپؐ خدا کی طرف سے کرنے کے لئے آئے تھے۔ جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کرے اورامتحان میں پاس نہ ہولے۔ کبھی بھی بے فکر نہ ہو۔ پھر یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ جوشخص متبتل ہوگا متوکل بھی وہی ہوگا۔گویامتوکل ہونے کے واسطے متبتل ہونا شرط ہے۔ کیونکہ جب تک اوروں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ ان پر بھروسہ اورتکیہ کرتا ہے۔ اُس وقت تک خالصتہً اللہ پرتوکل کب ہوسکتا ہے۔ جب خداکی طرف انقطاع کرتاہے