اورعملی طور پر صحیح ثابت نہیں ہوتا جب تک امتحان ساتھ نہ ہو۔
ہمارے ہاتھ پر بیعت تو یہی کی جاتی ہے کہ دین پر مقدم کروں گا اور ایک شخص کو جسے خدا نے اپنا مامُورکرکے دُنیا میں بھیجاہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے۔ جس کا نام حکم اورعدل رکھاگیا ہ۔ اپنا امام سمجھوں گا۔ اس کے فیصلے پر انشراحِ قلب کے ساتھ رضامند ہوجائوں گا، لیکن اگر کوئی شخص یہ عہد اور اقرارکرنے کے بعد ہمارے کسی فیصلہ پر خوشی کے ساتھ رضا مند نہیں ہوتا بلکہ اپنے سینہ میں کوئی روک اور اٹک پاتا ہے تو یقینا کہنا پڑے گا کہ اس نے تبتل حاصل نہیں کیا اور وُہ اس اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جو تبتل کا مقام کہلاتا ہے ، بلکہ اس کی راہ میں ہوائے نفس اور دنیوی تعلقات کی روکیں اور زنجیریں باقی ہیں اور ان حجابوں سے وہ باہر نہیں نکلا جن کو پھاڑکر انسان اس درجہ کو حاصل کرتا ہے۔ جب تک وُہ دنیا کے درخت سے کاٹا جاکر الوہیت کی شاخ کے ساتھ ایک پیوند حاصل نہیں کرتا۔ اس کی سرسبزی اور شادابی محال ہے۔ دیکھو جب ایک درخت کی شاخ اس سے کاٹ دی جاوے تو وہ پھل پھول نہیں دے سکتی۔ خواہ اسے پانی کے اندر ہی کیوں نہ رکھو اور ان تمام اسباب کو جوپہلی صورت میں اُس کے لئے مایۂ حیات تھے، استعمال کرو ،لیکن وہ کبھی بھی بارآورنہ ہوگئی۔ اسی طرح پر جب تک ایک صادق کے ساتھ انسان کاپیوندقائم نہیں ہوتا وُہ رُوحانیت کو جذب کرنے کی قوت نہیں پاسکتا۔ جیسے وہ شاخ تنہا اور الگ ہوکر پانی سے سرسبز نہیں ہوئی۔ اسی طرح پریہ بے تعلق اور الگ ہوکر بار آور نہیں ہوسکتا۔ پس انسان کو متبتل ہونے کے لئے ایک قطع کی ضرورت بھی ہے۔ اور ایک پیوند کی بھی۔
خداکے ساتھ اُسے پیوند کرنا اور دُنیا اور اس کے تمام تعلقات اور جذبات سے الگ بھی ہونا پڑے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بالکل دُنیا سے الگ رہ کر یہ تعلق اور پیوند حاصل کرے گا۔ نہیں بلکہ دُنیامیں رہ کر پھر اس سے الگ رہے۔ یہی تو مردانگی اور شجاعت ہے اورالگ ہونے سے مراد یہ کہ دُنیا کی تحریکیں اور جذبات اس کو اپنا زیراثرنہ کرلیں اور وُہ ان کو مقدم نہ کرے ، بلکہ خدا کومقدم کرے۔ دُنیا کی کوئی اور روک اس کی راہ میں نہ آوے اوراپنی طرف اس کو جذب نہ کرسکے۔ مَیں نے ابھی کہا ہے کہ دنیا میں بہت سے روکیں انسان کے لئے ہیں۔ ایک جورویابیوی بھی بہت کچھ رہزن ہوسکتی ہے۔ خدا نے اس کانمونہ بھی پیش کیا ہے۔ خدا نے صرف ایک نہیں کی تعلیم دی تھی اس کا اثر پہلے عورت پر ہواپھر آدم ؑ پر ہوا۔
غرض تبتل کیا ہے؟ خدا کی طرف انقطاع کرکے دُوسروں کو محض مُردہ سمجھ لینا۔ بہت سے لوگ ہیں جو ہماری باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ بجااور دُرست ہے، مگرجب اُن سے کہا جاوے کہ پھر تم اس کوقبول کیوں نہیں کرتے۔ تووُہ یہی کہیں گے کہ لوگ ہم کو بُراکہتے ہیں۔ پس یہ خیال کہ لوگ اُن کو بُرا کہتے ہیں۔ یہی ایک رگ ہے جو خدا سے قطع کراتی ہے، کیونکہ اگر خداتعالیٰ کا خوف دل میں ہواور اس کی عظمت اور جبروت کی حکومت