پر بیان فرمائی ۔ ان کو اپنی کسی رویا ء میں ارشادہواتھا کہ وہ تبتل کے معنی حضرت اقدس ؑ سے دریافت کریں۔ اس پر انہوں نے سوال کیااورحضرت اقدس ؑ نے اس کی تشریح فرمائی۔(ایڈیٹر)
’’میرے نزدیک رویاء میں یہ بتانا کہ تبتل کے معنی مجھ سے دریافت کئے جاویں۔ اس سے یہ مُراد ہے کہ جو میرامذہب اس بارہ میں ہے، وہ اختیار کیا جاوے۔ منطقیوں یا نحویوں کی طرح معنے کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ حال کے موافق معنے کرنے چاہئیں۔ ہمارے نزدیک اُس وقت کسی کو متبتل کہیں گے۔ جب وُہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام اور رضاکودُنیا اور اس کی متعلقات و مکُروہات پر مقدم کرے۔ کوئی رسم وعادت،کوئی قومی اُصول اس کا رہزن نہ ہو سکے، نہ نفس رہزن ہوسکے، نہ بھائی نہ جورو، نہ بیٹا نہ باپ ، غرض کوئی شے اور کوئی متنفس اس کو خداتعالیٰ کے احکام اور رضا کے مقابلہ میں اپنے اثر کے نیچے نہ لاسکے اور وہ خداتعالیٰ کی رضا کے حصول میں ایسا اپنے آپ کو کھودے کہ اس پرفنائے اَتَم طاری ہوجائے اور اس کی ساری خواہشوں اور ارادون پر ایک موت وارد ہوکر خدا ہی خدا رہ جاوے۔ دُنیا کے تعلقات بسااوقات خطرناک رہزن ہوجاتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کی رہزن حضرت حوا ہوگئی۔ پس تبتل تام کی صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ ایک سُکر اور فناانسان پر وارد ہو، مگر نہ ایسی کی وہ اسے خدا سے کم کرے بلکہ خدا میں گم کرے۔
غرض عملی طورپر تبتل کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے جب کہ ساری روکیں دُورہوجائیں اور ہر ایک قسم کے حجاب دُور ہوکر محبتِ ذاتی تک انسان کا رابطہ پہنچ جاوے اور فنائِ اَتَم ایسی حاصل ہوجاوے۔ قیل وقال کے طور پر تو سب کچھ ہوسکتا ہے اور انسان الفاظ اور بیان میں بہت کچھ ظاہرہوسکتا ہے، مگر مشکل ہے تو یہ کہ عملی طور پر اسے دکھابھی دے جو کچھ وہ کہتا ہے۔ یوں تو ہر ایک خدا کوماننے والا ہے۔ پسند بھی کرتا ہے اور کہہ بھی دیتا ہے کہ مَیں چاہتا ہوں کہ خدا کو سب پر مقدم رکھوں اور مقدّم کرنے کا مدّعی بھی ہوسکتا ہے ۔ لیکن جب ان آثار اور علامات کا معائنہ کرنا چاہیں جو خدا کے مقدّم کرنے کے ساتھ ہی عطاہوتے ہیں تو ایک مشکل کا سامناہوگا۔ بات بات پر انسان ٹھوکر کھاتا ہے۔ خداتعالیٰ کی راہ میں جب اس مال اور جان دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور خداتعالیٰ اُن سے اُن کی جانوں اور مالوں یا اور عزیزترین اشیاء کی قربانی چاہتا ہے؛ حالانکہ وہ اشیاء اُن کی اپنی بھی نہیں ہوتی ، لیکن پھر بھی وہ مضائقہ کرتے ہیں۔ ابتداء بعض صحابہ کو اس قسم کا ابتلاپیش آیا۔ رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبنائِ مسجد کے واسطے زمین کی ضرورت تھی۔ ایک شخص سے زمین مانگی تو اس نے کئی عُذر کرکے بتادیا کہ میں زمین نہیں دے سکتا۔ اب وُہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا اور اللہ اور اس کے رُسول کو سب پر مقدم کرنے کا عہد اس نے کیا تھا، لیکن جب آزمائش اورامتحان کا وقت آیاتو اس کوپیچھے ہٹنا پڑا۔ گوآخر کاراس نے وہ قطعہ دے دیا۔ تو بات اصل میں یہی ہے کہ کوئی امر محض بات سے نہیں ہوسکتا۔ جب عمل اس کے ساتھ نہ ہو۔