امام صاحب ؓ کا یہ قول دیکھا کہ صرف جو اور انگور اور دوا اور یعنی چارقسم کی شراب حرام ہے، تو انہوں نے ولایت کی شرابیں منگواکر اسی ہزارروپیہ کی شراب پی۔ تاکہ امام صاحب ؒ کی سچی پیروی ہوجاوے۔ استغفراللہ ثم استغفراللہ۔
غرض اس قسم کی تاویلیںکرلیتے ہیں۔ عام طور پرشکایت کی جاتی ہے کہ جس قسم کا فتویٰ کوئی چاہے ان سے لے لے۔ حلالہ کا مسئلہ بھی انہوں نے ہی نکالا ہے۔ اگر کوئی عورت کو طلاق دے دے تو پھر جائز طو رپر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرے اوروہ پھر اس کو طلاق دے؛ حالانکہ قرآن شریف میں کہیں اس کا پتہ نہیں ملتا اور احادیث میں حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے۔
شافعی
پھر ایک اور فرقہ شافعی مذہب والوں کا ہے۔ وہ تو وحشیوں کی سی زندگی بسرکرتے ہیں ہیں۔ ان کے ہاں ایک مقولہ ہے۔ ’’شافعی سب کچھ معانی‘‘یعنی نہ حِلّت وحُرمت کی ضرورت
ہے نہ کچھ اور۔
چنانچہ ہمارے ملک میں خانہ بدوش لوگ جو پھر اکرتے ہیں یہ اپنے آپ کوشافعی کہتے ہیں۔ ان کے اطوار ورچال چلن کو دیکھ۔ امرتسر میں ایک مُوحدّ رنڈی کی مسجد میں نماز پڑھایاکرتاتھا۔ اس نے میرے پاس ذکر کیا کہ وہ ایک مرتبہ بمبئی چلا گیا اور اتفاق سے شافیعوں کی مسجد میں چلاگیا۔ صُبح کی نماز کا وقت تھا۔ اس سے جب دریافت کیا تو اس نے کہہ دیا کہ مَیں شافعی ہوں اور جب انہوں نے اس کو نماز کے لئے امام بنایا اوراس نے شافعی مذہب کے موافق صبح کی نمازمیں قنوت نہ پڑھی تو وہ لوگ بڑے ہی برافروختہ ہوئے ۔آخربمشکل وہاں سے بچ کر نکلا۔ الغرض مذہب اسلام میں اندرونی طور پر ایسے ایسے بہت سے فساد اور فتنے ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے اور بیرونی فسادوں کو آدمی دیکھے تو اور بھی حیران ہوجات اہے۔ ایک پادریوں کی ہی فتنہ کو دیکھو تو گھبرا جائو۔ مختصر یہ کہ ان سارے فسادوں کو اجتماع بالبداہت بتارہا ہے کہ اس وقت آسمانی سلسلہ کی ضرورت ہے اور اگر خدا اس وقت کوئی سلسلہ قائم نہ کرتاتو پھر خدا پر اعتراض ہوتا، مگر خدا کاشکر ہے کہ اس نے وقت پر ہماری دستگیری کی اور اس سلسلہ کو اپنی تائیدوں کے ساتھ قائم کیا۔فالحمدللہ علی ذلک۔
؎۱۳؍ستمبر ۱۹۰۱ء
تبتل کی حقیقت
۱۳؍ستمبر ۱۹۰۱ء کو مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس حجۃ اللہ علی الارض مسیح موعود اور ادام فیوضہم نے سید امیرعلی شاہ صاحب ملہم سیالکوٹی کےاستفسار