رکھامیں نے ایک موحد سے پوچھا کہ تم جو کہتے ہو کہ مسیح نے بھی کچھ جانور بنائے تھے اور وہ خدا کے بنائے ہوئے پرندوں میں مل جل گئے۔ اب ہمیں کیونکر معلوم ہوکر یہ جانور مسیح کا بنایا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے۔ غرض اس قسم کے ان لوگوں کے عقائدہیں۔ہاں چالاکی سے اَئمہ اربعہ کو بُرا کہہ لیتے ہیں۔ مثلاً ایک امام کی بابت وُہ الزام لگاتے ہیں کہ وُہ بڑے مالدار تھے اور زکوٰۃ نہیں دیتے تھے۔آخر سال پر سارا مال بیوی کو دے دیتے تھے اور پھر اپنی طرف منتقل کرلیتے تھے اس طرح پر گویا اس کو زکوٰۃ کے اثر سے بچالیتے تھے۔ اس قسم کے بہت سے افترا کرتے ہیں۔ انہوں نے بجزلفاظی کے اور کوئی فائدہ اسلام کو نہیں پہنچایا۔ اپنے طریقِ عمل سے اسلام کو مردہ مذہب ثابت کرنا چاہا ہے۔جب کہ یہ کہہ دیا کہ اب کوئی ایسا مرد نہیں ہے جس کے ساتھ زندہ نشانات اسلام کی تائید میں ہوں۔ افسوس! ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوا۔ یہ کیوں نہیں سمجھتے؟ کیا قرآن میں جو اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (فاتحہ:۶۔۷) یہ یُونہی ایک بے معنی اور بے مطلب بات تھی اور نرا ایک قصہ ہی قصہ ہے؟ کیا وہ انعام کچھ نہ تھا۔ خدا نے نرا دھوکہ ہی دیا ہے؟ اور وہ اپنے سچے طالبوں اور صادقوں کو بدنصیب ہی رکھنا چاہتا ہے؟کس قدر ظلم ہے اگر یہ خداکی نسبت قراردیاجائے کہ وُہ نری لفاظی سے ہی کام لیتاہے۔
حقیقت یہ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی اپنی خیالی باتیں ہیں۔ قرآن شریف درحقیقت انسان کو ان مراتب اور اعلیٰ مدارج پر پہنچانا چاہتا ہے جو انعمت علیہم کے مصداق لوگوں کو دیئے گئے تھے اور کوئی زمانہ ایسانہیں ہوتا جب کہ خداتعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود نہ ہوں۔ ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ آریوں کی طرح خدا کا پریمی اوربھگت کتنی ہی دعائیں کرے اور رورو کر اپنی جان کھوئے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔ اسلام خشک مذہب نہیں ہے۔ اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے نشانات اس کے ساتھ ہیں۔ پیچھے رہے ہوئے نہیں۔
غرض یہ بھی ایک بدنصیب گروہ ہے۔ یہ لوگ اپنااصل مذہب نہیں بتاتے ہیں۔ ان کی خبر مشکل سے ہوتی ہے۔
احناف
رہے حنفی ، ان میں بدقسمتی سے اقوالِ مُردہ اور بدعات نے دخل پالیا ہے۔ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تواعلیٰ درجہ کے متقی تھے، مگر اُن کے پَیروئوں میں جب رُوحانیت نہ رہی تو انہوں نے اور بدعتوں کو داخل کرلیا اورتقلید میں انہوں نے یہاں تک غلو کیا کہ ان لوگوں کے اقوال کو جن کی عصمت کاقرآن دعویٰ نہیں کرتا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر بھی فضیلت دے دی اور اپنے اغراض اور مقاصد کو مدِ نظر رکھ کر امام صاحبؒ کے اقوال کی جس طرح چاہا تاویل کرلی۔ لُدھیانہ میں مَیں ایک دفعہ تھا تو نوابوں کے خاندان میں سے ایک شخس میرے پا س آیا اور باتوں ہی باتوں میں انہوں نے کہا کہ مَیں پکا حنفی ہوں اور یہ بھی کہاکہ میرے چچا صاحب کو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی حسنِ عقیدت تھی ۔ یہانتک کہ انہوں نے مالا بدمنہ میں