غرض یہ غلطیاں تو ان لوگوں کی ہیں جو خدابنے ہیں اور انہوں نے اسلام کو سخت گزند پہنچایا ہے۔ مخالفوں نے اُن کے اقوال کو لے کر اسلام پر اعتراض کیے ہیں۔ ایک اورفتنہ پھر دُوسرا فتنہ اُن لوگوں کا ہے جو اپنے آپ کو موحد کہتے ہیں۔ انہوں نے الفاظ پرستی کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔ لاہور میں ایک شخص سے بحث ہوئی۔ عبدالکریم اس کا نام تھا۔٭ ٭نوٹ: جب اس مولوی عبدالکریم سے فروری ۱۸۹۲؁ء میں بمقام لاہو رحضرت اقدس امام علیہ السلام کی بحث ہوئی تھی۔ تو بفضلہ تعالیٰ خاکسار ایڈیٹر الحکم بھی اس بحث کے موقعہ پر شامل تھا۔ یہ شخص آخرمباحثہ کے پرچے لے کر چل دیا اور پھر بے حیائی سے ۱۹۰۰؁ء میں بمقام قادیان آیا۔ ہر چند اس کو سمجھایا مگر وہ راہ پر نہ آیا اور بیہودہ بکواس کرنے لگا۔ جب اس کو لاہور والا مباحثہ یاددلایا اور ان کاغذات کو لے کر بھاگ جانے کا الزام اس کو دیا گیا تو پھر وعدہ کیا کہ مَیں اب وہ کاغذ طبع ہونے کے واسطے بھیج دوں گا۔ ایک مہینہ کے اند راندر ایڈیٹر الحکم کے پاس کاغذ مباحثہ پہنچ جائیں گے۔ اگرنہ بھیجوں تو مجھے کاذب سمجھا جاوے۔ مگر اب ایک مہینہ چھوڑ ایک سال ختم ہونے کو آیا۔آج تک اس نے وہ کاغذ نہ بھیجے۔ کاش اگر وہ کمبخت وہ پرچے بھیج دیتا تو حضرت اقدس ؑ کی تقریرو کو شائع کرسکتے۔ بہرحال یہ اس عبدالحکیم کا ذکرہے(ایڈیٹر){ اُس نے صاف کہہ دیا کہ حضرت عمر بھی محدث نہ تھے اور حدیث کے معنی یہ کیے کہ اگر محدث ہوتاتو عمرؓ ہوتا۔ یہ ترجمہ کرکے اس نے خداپر الزام لگایا کہ اس نے اس اُمت کے گویا آنسو پُونچھ دیے اور کچھ نہیں۔ مگر مَیں پوچھتا ہوں کہ ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ کیا اس کو کرتوت پردہ اس اُمت کو خیرالامم قراردیتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص بھی ایسانہ ہو اجس کو خداتعالیٰ سے کلام کرنے کا شرف ملا ہو اور جو اسلام کی صداقت کے لئے ایک زندہ نمونہ ٹھہرتا۔ ان لوگوں نے عملی طور پر گویا مان لیا ہے کہ اب نہ کسی کاخدا سے تعلق ہے ہ مکالمہ الہٰیہ کا شرف کسی کو حاصل ہے ، دُعائوں کی قبولیت کا کوئی نشان موجود نہیں ہے۔ پھر بنی اسرائیل کی تو عورتوں تک بھی خدا سے ہمکلام ہونے کا شرف ملتا تھا۔ کیا اسلام میں کوئی مرد بنی اسرائیل کی عورتوں جیسا بھی نہیں ہے؟ اے اسلام کے نادان دوستو! ذراغور تو کروکہ اس سے اسلام پر کیسا حرف آتا ہے کہ خدا نے اسی واسطے اسلام کوتمہارے لیے پسند کیاتھا اور اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرارددیاتھا کہ آئندہ قیامت تک کوئی نشان ان کی صداقت پر قائم نہ ہوتا اور زندگی کے نشان مٹائے جاتے؟ مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ جب ان لوگوں کے عقائد پر نظرکرتاہوں۔ ان میں بجز الفاظ ک اور کچھ نظر نہیں آتا اور جو کچھ انہوں نے مان رکھا ہے اس سے مخالفوں کو بڑے بڑے اعتراض کرنے کا موقع ملا ہے؛ چنانچہ مسیح کے متعلق ہی جو کچھ ان کے عقائد ہیں وہ پوشیدہ نہیں۔ یہ لوگ مانتے ہیں کہ مسیح مُردے زندہ کرتا تھا اور چڑیاں بھی بنایا کرتاتھا اورآج تک وہ آسمان پر بغیر کسی قسم کے زمانہ کے اثر ہونے کے بیٹھا ہو اہے تو بتائو کہ اس کے خدا بنانے میں انہوں نے کیا باقی