چونکہ یہودؔیوں،طبیعیوؔں،آتش پرؔستوں اورمختلف اقوام میں بدروشنی کی روح کام کر رہی تھی ،اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے با علام الہی سب کو مخالف کر کے فر ماتا :یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا(الاعراف:۱۵۹)اس لیے ضروری تھا کہ قرآن شریف ان تعلیمات کا جامع ہوتا جو وقتاً فوقتاًجاری رہ چکی تھیں اور ان تمام صداقتوں کو اپنے اندر رکھتا جو آسمان سے مختلف اوقات میں مختلف نبیوں کے ذریعے سے زمین کے باشندوں کو پہنچائی گئی تھیں۔قرآن کریم کے مد نظر تمام نوع انسان تھا نہ کوئی خاص قوم اور ملک اور زمانہ۔اور انجیل کے مدنظر(صرف)ایک خاص قوم تھی،اسی لیے مسیح علیہ اسلامنے بار بار کہا کہ’’میںاسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں۔‘‘
تورات کے بعد قرآن شریف کی ضرورت
بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کیا لایا؟اس میں وہ کچھ تو ہے جو تورات میں درج ہے اور اسی کو تاہ نظری نے بعض عیسائیوں کو عدم ضرورت قرآن جیسے رسائل لکھنے پر دلیر کر دیا۔کاش وہ سچی دانائی اور حقیقی فراست سے حصہ رکھتے،تا وہ بھٹک نہ جاتے۔ایسے لوگ کہتے ہیں کہ توراتؔ میں لکھا ہے کہ تو زنانہ کر۔ ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ زنانہ کر۔ قرآن توحید سکھاتا ہے اور تورات بھی خدائے واحد کی پرستش سکھلاتی ہے۔ پھر فرق کیا ہوا؟ بظاہر یہ سوال بڑا پیچدارہے۔اگر کسی ناواقف آدمی کے سامنے پیش کیا جاوے،تو وہ گھبرا جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے باریک اور پیچدار سوالات کا حل بھی اللہ تعالی کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔یہی تو قرآنی معارف ہیں۔جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے ہیں۔حقیقت یپ ہے کہ قرآن شریف اور توراتؔ میں تطابق ضرور ہے۔اس سے ہم کو انکار نہیں،لیکن توراتؔ نے صرف تین کو لیا ہے۔جس کے ساتھ دلائل،براہین اورشرح نہیں ہے، لیکن قرآن کر یم نے معقولی رنگ کو لیا ہے۔اس لیے کہ توراتؔ کے وقت انسانوں کی استعدادیںوحشیانہ رنگ میں تھیں(مگر قرآن شریف کے نزول کے وقت اسعدادیں معقولیت کا رنگ پکڑ گئی تھیں)اس لیے قرآن شریف نے وہ طریق اختیار کیا جو اخلاق کے منافع کو ظاہر کرتا ہے اور بتلاتاہے کہ اخلاق کے مفادیہ ہیں اور نہ صرف مفاداور منافع کوبیان ہی کرتا ہے،بلکہ معقولی طور پر دلائل اور براہین کے ساتھ ان کو پیش کرتا ہے۔تاکہ عقل سلیم سے کام لینے والوں کو انکار کی گنجائش نہ رہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ قرآن شریف کے وقت استعداردیں معقولیت کا رنگ پکڑ گئی تھیںاور توراتؔ کے وقت وحشیانہ حالت تھی۔حضرت آدم ؑسے لے کر زمانہ ترقی کرتا چلاگیا ہے۔یہاںتک کہ قرآن شریف کے وقت وہ دائرہ کی طرح پورا ہو گیا۔حدیث شریف میں ہے کہ زمانہ مسدیر ہو گیا۔اللہ تعالی فرماتا ہے:ماکان محمد ابا احد من رجا لکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین(الاحزاب۴۱:)
ضرورتیںنبوت کا انجن ہیں۔ظلماتی راتیں اس نور کو کھینچتی ہیں،جو دنیا کوتاریکی سے نجات دے۔اس ضرورت کے موافق نبوت کا سلسلہ شروع ہوا اور جب قرآن کریم کے زمانہ تک پہنچا،تومکمل ہو گیا۔اب گویا سب ضرورتیں پوری ہوگئیں۔اس سے لازم آیا کہ آپ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم الانبیاتھے۔اب بڑااورواضح فرق(تورات و قرآن کریم