مجھے واقعی یقین آگیا ہے۔ وہ اپنے اند رکون سے خواصِ ربانی اور صفاتِ ربانی محسوس کرتا ہے جو یہ فضول دعویٰ کربیٹھتا ہے ۔ جب قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا اور حوائج ِ انسانی کی زنجیروں میں پابند اور جکڑا ہوا ہے۔ پھراُسے کیا حق پہنچتا ہے کہ منم خدا کہے اور کہے کہ ہاں مجھے اپنے خدا ہونے پر یقین ہوگیا ہے۔ اگر وُہ ایسا کہے تو دُوسرا اُس کو دیکھنے والا کہہ سکتا ہے کہ تو کیوں فضول اتنی شیخی مارتا ہے۔ اپنی عاجزی اور فردمائگی کودیکھو۔ قرآن شریف میں خالق اور مخلوق میں صریح امتیاز رکھاہوا ہے۔ الحمدللہ سے قرآن شریف کو شروع کیا گیا ہے اور پھر مرنے کے بعد بھی ایک مرحلہ رکھا ہوا ہے۔ انسان جب خود اپنے حالات اور صفات کو ہی جان نہیں سکتا اور سمجھ نہیں سکتا۔ پھر یہ خدا کیسے بن سکتا ہے۔ اس کے علم کامحدود اور ناقص ہونا ہی اس کے مخلوق اور بندہ ہونے کی دلیل ہے۔ اگر یہ غور کرے۔
مسئلہ وحدتِ وجود
غرض یہ بڑا گندہے۔ اور لوگ جو اس مسئلہ وحدتِ وجود کومانتے ہیں بڑے گُستاخ اور متکبر ہوتے ہیں۔ اپنی غلطیوں کو نہیں چھوڑتے اور غلطیوں کو
چھوڑیں کیونکر۔ جبکہ وہ اپنے آپ کو معاذ اللہ خداسمجھتے ہیں۔ اگر خدا اور بندہ میں فرق کریں تو ان کو اپنی غلطیوں کی حقیقت پر اطلاع ملے۔ وُہ اپنے طفلانہ خیالات پر خوش ہیں، اس لیے قرآن شریف کے حقائق سے ان کو کوئی خبرنہیں ہوسکتی۔ یہ بہت بڑی خرابی ہے اور مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ خرابی کب سے پید اہوئی ہے۔
میرے نزدیک سارے گدی نشینوں میں کوئی کم ہوگا جس کا یہ مذہب نہ ہو او رانہوں نے بزرگانِ دین کے اُن اقوال کو جو انہوں نے استیلائے محبت اور جوش عشق میں فرمائے تھے۔ فلسفہ بنادیا۔ اصل میں فنائے نظری اور وجودی مذہب میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر فلسفہ نہیں رکھتا، وہ استیلائے عشق رکھتا ہے او ردُوسرافیلسُوف بنتا ہے۔ یہ خدا کادشن اور مُنکر ہے اور اس کو خدا سے محبت نہیں کیونکہ جیسے فلسفی مُردہ کو تو چیرسکتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وُہ مُردہ کو کھابھی ہے جس کسی نے کتے یابندر کی تشریح دیکھ لی ہے، اس کے لئے کب لازم آتا ہے کہ اس سے تعلق بھی ہو۔ یہ ایسے ہی مدعی ہیں۔ فیلسوف بنے ہوئے ہیں مگر انہوں نے ثابت نہیں کیا کہ خدا سے اُن کا کوئی تعلق بھی ہے۔ اکابر کا وُہ طبقہ جنہوں نے آگے قدم بڑھایا ہے وہ مقبول بھی ہوگئے ہیں۔ اس لیے کہ اُن پر خداتعالیٰ کی محبت اور عشق غالب آگیا تھا۔ وہ قرآن شریف پر ایمان لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دریامیں تیرتے تھے۔ اسلام ان کا مذہب تھا۔ اس لیے اُن سے خداتعالیٰ کے فضل سے وہ کرشمے اور عجائبات ظاہر ہوئے ۔۔۔حقیقت یہی ہے کہ جب بندہ اپنے خالق کے ساتھ محبت و عشق میں شدید تعلق پیداکرلیتا ہے اس وقت اسے خداتعالیٰ اپنی صفات سے ایک حظ عطاکرتا ہے۔ کیونکہ خدا نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے۔