ہے۔آخر کار دہریوں کے ساتھ نشست وبرخاست شروع کرتے ہیں۔اور حدود اللہ کو توڑ کر بے قید ہو جاتے ہیں۔غرض یہ بڑا ہی خطر ناک زہر ہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت با یزید بسطامی یا خواجہ جنید بغدادی یا سید عبدلقادر جیلانی ؒ کا کے کلمات میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہین جن سے جاہل یا تو ان کو کفر کے ساتھ منصوب کرتے ہیں۔یا ان کے اقوال کو فرقہ ضالہ وحدۃ وجود کے لئے حجت پکڑتا ہے۔جیسے سبحانی مااعظم شانی اور اللہ فی حبتی۔ یہ اُن کی غلط فہمی ہے جو وہ ان کے اقوال سے حجت پکڑتے ہیں۔ اول تو یہ صحیح طور پر معلوم نہیں کہ ان کے مُنہ سے ایسے الفاظ نکلے بھی ہیں یا نہیں۔ لیکن اگر ہم منا بھی لیں کے واقعی انہوں نے ایسے الفاظ بیان فرمائے ہیں تو ایسے کلمات کا چشمہ عشق اور محبت ہے۔مثلاً ایک عاشق جوشِ محبت اور محویت عشق میں کہہ سکتا ہے۔
من تو شدم تومن شدی من تن شدم تو جان شدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
یہ محویت اورفنا اس قسم کی اور رنگ کی ہے جیسے ماں کو اپنے بچہ کے ساتھ محبت کے رنگ میں ہوتی ہے۔ یہانتک کہ اگر تھوڑی دیر بچہ ماں کو نہ ملے تو اس کا دل اندرہی اندربیٹھاجاتا ہے اور ایک اضطراب اور گھبراہٹ محسوس کرتی ہے اورجُوں جُوں اس مٰں توقف اور دیر ہوتی جاتی ہے۔ اسی قدر اُس کا اضطراب بڑھتا جاتا ہے اور اسے بیہوش کردیتا ہے۔ اب یہ اُس کی فنا اُس کے وجود سے بڑھ کر ہے۔ مگر وجودی نے فنا میں ایک وجود قائم کیا ہے۔ غرض ان بزرگوں کے مُنہ سے جو الفاظ اس قسم کے نکلے ہیں، جن کو وجودیوں نے اپنی تائید میں پیش کیا ہے۔ وُہ اسی قسم کی محویت اور عشق و محبت کے غلبۂ تامہ کا نتیجہ ہیں، جس کو ان لوگوں نے اپنی کم فہمی کے باعث کچھ کا کچھ بنالیا ہے۔ اُن کو یہ معلوم نہیں کہ جب عشق و محبت جوش مارتے ہیں، تو اس کے عجیب عجیب اثر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہانتک کہ یہ اپنے آپ سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ استیلائِ محبت میں اپنا وجود دکھائی دیتا ہی نہیں اور یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مَیں کچھ بھی نہیں۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لوہے کے ٹکڑے کو آگ میں ڈال دیا جاوے۔ یہانتک کہ وہ سرخ انگارے کی طرح ہوجائے۔ اس حالت میں ایک دیکھنے والا لوہے کا ٹکڑا قرارنہیں دے گا، بلکہ وُہ اُس کو آگ ہی کا ایک انگارہ سمجھے گا اور وُہ بظاہر ہوتا بھی آگ ہی ہے۔ اس سے جلا بھی سکتے ہیں،لیکن حقیقت میں وہ لوہا ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح پر آتشِ محبت اپنے عجائبات دکھاتی ہے۔ نادان عجائبات کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ ان پر غور کرے اور ان سے مفید نتیجہ حاصل کرے۔ ایک خیالی اثر دل پر قائم کرلیتا ہے اور اسی لیے یہ مشکلات ہیں کہ ہر شخص جس مذہب میں اپنی عمر کا ایک حصہ گذارتا ہے وہ اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ مگر یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔ جہاں اور غلطیوں اورکمزوریوں کا مواخذہ ہوگا، وہاں اس کا بھی مواخذہ ضرور ہوگا، کیونکہ خداتعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے۔ لاتفق مالیس لک بہ علم (بنی اسرائیل:۳۷) پھر منم خداوالا کیونکرکہہ سکتا ہے کہ