صِفات ہیں؟ ذرا بچہ یا بیوی بیمار ہوجاوے توکچھ نہیں بنتا اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کِیا جاوے۔ مگر خداتعالیٰ چاہے تو شفاددے سکتا ہے؛ حالانکہ وجودی کے اختیار میں یہ امر نہیں ہے۔ بعض وقت مالی ضُعف اور افلاس ستاتا ہے؛ بعض وقت گناہ اورفسق وفجوربے ذوقی اور بے شوقی کاموجب ہوجاتا ہے تو کیا خداتعالیٰ کے شاملِ حال بھی یہ اُمور ہوتے ہیں؟ اگر خدا ہے تو پھر اس کے سارے کام کن فیکون سے ہونے چاہیں؛ حالانکہ یہ قدم قدم پر عاجز اور محتاج ٹھوکریں کھاتا ہے افسوس وجودی کی حالت پر کہ خدا بھی بنا پھر اس سے کچھ ہ ہوا۔ پھر عجب تر یہ ہے کہ یہ خدائی اس کو دوزخ سے ہیں بچاسکتی۔ کیونکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے ۔ من یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ (الزلزال:۹) پس جب کوئی گناہ کیا تو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے جہنم میں جانا پڑا اور ساری خدائی بطال ہوگئی۔ وجودی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (الشوریٰ:۸) جب کہ وہاں بھی انسانیت کے تجسم بنے رہے، تو پھر ایسی فضول بات کی حاجت ہی کیا جس کا کوئی نتیجہ اور اثر طاہر نہ ہوا۔غرض یہ لوگ بڑے بیباک اور دلیر ہوتے ہیں چونکہ اس فرقہ کا نتیجہ اباحت اور بے قیدی ہے ۔اس لئے یہ فرقہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔۔لاہور جالندھر ہوشیار پور اضلاع میں اس فرقے نے اپنا زہر بہت پھیلایا ہے۔غور کر کے اس کے نتیجے پر نظر کرو۔بجز اباحت کے اور کچھ معلوم نہیں دیتا ۔یہ لوگ صوم صلوۃ کے پابند نہیں اور ہو بھی نہیں سکتے۔کیونکہ خدا سے ڈرنا جس پر نجات کا مدار اور اعمال کا انحصار ہے وہ ان میں نہیں ہے۔بعض بالکل دہریوں کے رنگ میں ہیں۔ غرض میں سچ کہتا ہوں کہ یہ فتنہ بھی منجملہ اس فتنوں کے جو اس وقت پھیلے ہوئے ہیں ایک سخت فتنہ ہے۔جس نے فسق وفجور کا دریا چلا دیا ہے۔اور اباحت اور دہریت کے دروازوں کو کھول دیا ہے۔اگر صحابی کرام رضوان اللہ اجمیعین اس وقت زندہ ہوتے،تو وہ ان کو دیکھ کر حیران ہوتے کہ یہ اسلام کہان سے اایا ہے ۔انسان کو کسی حالت میں مناسب نہیں کہ وہ انسانیت کی حدود کو توڑ کر آگے نکل جاوے۔کیا سچ کہا ہے؎ بز ہدو سرع کوش وصدق وصفا ولیکن میفزائے بر مصطفیٰ غرض یہ فرقہ دق کی طرح ہے۔ایک شخص الہٖ آباد میں تھا ۔اس نے مجھ سے خط وکتابت کی۔ایک دو مرتبی کے خطوط کی آمد ورفت کے بعد وہ گالیوں اور بد زبانیوں پر اتر آیا۔ان لوگوںمیں تزکیہ نفس تو بڑی بات ہے۔عام اخلاقی حالت بھی اچی نہیںہوتی۔ اصل یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ اور تزکیہ نفس کا مدار ہے تقویٰ اور خدا کا خوف جو بد قسمتی سے ان لوگوں میں نہیں ہوتا ،کیونکہ وہ تو خد ا بنے ہوئے ہوتے ہیں۔پس جب وہ انسانیت کو چھوڑ کر خدا بن گئے اور ایک ثابت شدہ بات ہے کہ وہ تو خدا بن ہی نہیں سکتے۔پھر باقی یہ رہا کہ انسانیت چھوڑ کر شیطان بن گئے۔اس لئے وہ بہت جلد برا فروختہ ہو جاتے ہیں۔اور جہاں تک ان لوگون کے حالات کی تحقیقات کرو گے ان میں اسلام کی پابندی نہیں ہوتی،اس لئے کہ وہ خشیت الٰہی نہیں ہوتی اور ہیبت اٹھ جاتی