وجوُدی فرقہ
وجودیوں کی مثال ایسی ہے جیسے ڈاکٹر انسان کی تشریح کرتاہے اور اس کے دل و گُردہ وجگر کے بھید معلوم کرتا ہے۔ اسی طرح پروجوُدی نے خدا کا بھید معلوم
کرنے کا دعویٰ کیا ہے؛ حالانکہ یہ نِری غلطی اورگستاخی ہے۔ یہ لوگ اگر خداتعالیٰ کی عظمت وجبروت سے ڈرنے والے ہوتے اور ان کے دل میں خدا کاخوف ہوتاتو ان کے لیے صرف آیت لاتدرکہ الابصار (انعام:۱۰۴) ہی کافی تھی۔ اور لیس کمثلہ شیی (الشوریٰ:۱۲) ہی بس تھا۔ مگر جو شخص خدا کے وجود میں آگے سے آگے ہی چلا جاوے توحیا اس کا نام نہیں ہے۔
وجودی مذہب والوں نے کیا بنایا۔
(٭نوٹ:۔بناتے توکیا خاک اُلٹے خرابی میں پڑگئے۔ کیااچھا ہوتاکہ اگر یہ وجودی بجائے وحدتِ وجود کے کثرتِ وجود کا عقیدہ رکھتے اور خدابننے کی کوشش نہ کرتے بلکہ مسیح بننے کی کوشش کرتے تاکہ یہ شرک عظیم جو دُنیا میں پھیل رہا ہے کچھ تو مٹتا اور ۴۰ کروڑ لوگوں میں سے جو رات دن ربنا المسیح پکارتے ہیں کسی کی آنکھ کُھلتی کہ دُنیا میں کتنے مسیح ہوچکے ہیں اور ہوں گے اورقرآن کریم نے اس شِرک اعظم کو توڑنے کے لئے مسیح ابن مریم بننے کا دروازہ کھول دیا ہے؛ چنانچہ سورۃ تحریم کی آخر کی آیات بوضاحتِ تمام کہہ رہی ہیں کہ پہلے زمانہ میں ایک ہی مسیح تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعی میں سے سارے مومنین مسیح ابن مریم ہوسکتے ہیں۔)
انہوں نے کیا معلوم کیا جو ہم کو معلوم نہ تھا؟ بنی نوع کو انہوں نے کیا فائدہ پہنچایا؟ ان ساری باتوں کاجواب نفی میں دینا پڑے گا۔ اگر کوئی ضد اور ہٹ سے کام نہ لے تو ذرا بتائے تو سہی کی خدا تو محبت اور اطاعت کی راہ بتاتا ہے؟ چنانچہ خود قرآن شریف میں اس نے فرمایا ہے والذین امنو اااشدحباللہ اور فاذکرو اللہ کذکرکم اباء کم (البقرہ:۲۰۱) کبھی یہ بھی ہو اہے کہ بیٹا باپ کی محبت میں فنا ہوکر خود باپ بن جائے۔ باپ کی محبت میں فناتو ہوسکتا ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ باپ ہی ہو جاوے۔ یادرکھنے کے قابل بات ہے ہ فنائِ نظری ایک ایسی شے ہے جو محبت سے ضرور پیدا ہوتی ہے ، لیکن ایسی فنا جو درحقیقت بہانہ فنا کا ہو اورایک جدید وجود کے پیداکرنے کا باعث بنے کہ مَیں ہی ہوں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔
جن لوگوں میں تقویٰ اور ادب ہے اور جنہوں نے لاتقف مالیس لک بہ علم (بنی اسرائیل:۳۷) پرقدم مارا ہے وُہ سمجھ سکتے ہیں کہ وجودی نے جو قدم مارا ہے وُہ حدِ ادب سے بڑھ کر ہے۔ بیسیوں کتابیں ان لوگوں نے لکھی ہیں، مگرہم پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی وجودی اس بات کا جواب دے سکتا ہے کہ واقعی وجُودی میں خدا ہے؟ یا تصور ہے؟ اگر خدا ہی ہے۔ تو کیا یہ ضُعف اورکمزوریاں جو آئے دن عایدحال رہتی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی