میری رائے میں اندرونی مفاسد میں سے بہت کچھ حصہ علماء کے باعث سے پید اہوا ہے اور کچھ حصہ اُن لوگوں کی غلطیوں کا ہے جو اپنے آپ کو موحِدّ کہتے ہیں اورا نہوں نے نری خشک لفاظیوں کا نام اسلام رکھ چھوڑا ہے۔ اور ذرا بھی آگے نہیں بڑھتے۔ انہوں نے فیصلہ کررکھا ہے جیسا عیسائیوں یا اور باطل پرستوں نے مان رکھا ہے کہ خدا کی طاقتیں پیچھے رہ گئی ہیں اور آگے نہیں ہیں گویا جو کچھ اُن کے ہاتھ یں ہے وہ نرے قصے اور کہانیاں ہی ہیں۔ جن میں حقیقت کی رُوح اور زندگی کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ دُوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ انہوں نے اسلام کا مغز ور خلاصہ دُنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ صرف قصوں کی پیروی کرو اور کچھ نہیں۔ جس قدر یہ ظلم اسلام پر کیا گیا ہے۔ اس کی نظیر اپنے رنگ میں بہت ہی کم ملے گی۔ کیونکہ اسلام ہی ایک ایسامذہب تھا اور ہے جو ہر زمانہ میں زندہ مذہب کہلاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کے نشانات مُردہ مذاہب کی طرح پیچھے نہیں رہ گئے بلکہ اس کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں۔مگر ان خشک موحِدّوں نے اس کو بھی مُردہ مذاہب کے ساتھ ملانے کی کوشش کی جبکہ اُس کے انوار وبرکات کو ایک وقتِ خاص تک محدُود کردیا۔ ابتداء میں جب اس فرقہ نے سرنکالا تو بعض طبیعتِ رساوالے بھی اُن کے پاس آتے تھے، مگر یہ کسی کو خیال پیدا نہ ہوا کہ ان کا تھیلا تو پڑتال کرکے دیکھے کہ ان کے پاس ہے کیا؟ جب خوب غور اور فکر سے اُن کی تلاشی لی گئی تو آخر یہی نکلا کہ ان کے پاس بجز رفع یدَین یا آمین بالجہر یا سینہ پر ہاتھ باندھنے کے اور ایسی ہی چند جُزئی باتوں کے اور کچھ نہیں۔ اور وُہ اسی پر زور دیتے رہے۔ مثلاً امام کے پیچھے فاتحہ ضرور پڑھنی چاہیے۔ قطع نظر اس کے کہ اس کے معانی پر اطلاع ہو یا نہ ہو۔محمدحسین قریباً بیس برس تک اپنے رسائل میں انہیں مسائل پر زوردیتا رہا ، لیکن آخر ماحصل یہی نکالا کہ اس پُرگوئی میں کوئی رُوحانیت نہیں ہے اور آخر ان تیز زبانوں کی مُنہ زوری آئمہ اربعہ کی تحقیر وتذلیل تک منتہی ہوتی ہے۔
اَ ئمہ اربعہ برکت کا نشان تھے
میری رائے میں اَئمہ اربعہ برکت کا نشان تھے۔ ان میں رُوحانیت تھی، کیونکہ رُوحانیت تقویٰ سے شروع ہوتی ہے اور
وہ لوگ درحقیقت متقی تھے اور خدا سے ڈرتے تھے اور اُن کے دِل کلابُ الدّنیا سے مناسبت نہ رکھتے تھے۔
یارکھو یہ تقویٰ بڑی چیز ہے ۔ خوارق کا صدُور بھی تقویٰ ہی سے ہوتاہے اور اگرخوارق نہ بھی ہوں پھر بھی تقویٰ سے عظمت ملتی ہے۔ تقویٰ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کے حاصل ہونے سے انسان خداتعالیٰ کے محبت میں فتاہوکرنقشِ وجودمٹاسکتا ہے۔ کمال تقویٰ کا یہی ہے کہ اس کا اپنا وجود ہی نہ رہے اور صیقل زوم آں قدر کہ آئینہ نمامذ کا مصداق ہوجائے۔ اصل میں یہی توحید اور یہی وحدتِ وجود تھی جس میں لوگوں نے غلطیاں کھاکر کچھ کا کچھ بنا لیا ہے۔ یہ کیا دین اور تقویٰ ہے کہ ایک ضیعف انسان اور بے چارہ بندہ ہوکر خدائی کا دعویٰ کرے۔ اس سے بڑھ کر کیا گستاخی اور شوخی ہوسکتی ہے کہ انسان خدا بنے اور خدا کے بھید اور اسرار کے جاننے کا مدّعی ٹھہرے۔