اس وقت قائم ہاسکت اہے کہ اسلام کا استیصال ہوجاوے۔ جو شخص قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخداتعالیٰ کاسچانبی مانتا ہے۔ اسے سمجھنا چاہیے کہ خداتعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا تھا کہ انانحن نزلناالذکروانا لہ لحافظون (الحجر:۱۰) کیا وُہ اس وقت ان بے جا حملوں کے دفاع اورفرد کرنے کے لئے اس صدی کے سر پر اپنی سنت قدیمہ کے موافق کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا؟؟؟ اور پھر قرآن شریف میں جبکہ یہ صاف فرمادیا کہ ان مع العسریسرا (الم نشرح :۷) تو کیا ضروری نہ تھا کہ ان تنگیوں کی جن میں آج اسلام مبتلا ہے۔ انتہاہوتی ؟ اور یسر کی حالت پید اہوتی؟ بے شک ضرورتھا ؛ چنانچہ اس نے ایساہی کیا۔ یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر غور کرنے سے ضروری طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ اس مصیبت اور ننگی کے وقت ضرورآسمان پر ایک سامان ہوچکا ہے اور تیاری ہورہی ہے۔ اور وہ وقت قریب ہے کہ اسلام اپنی اصلی حالت اور صورت میں نمایاں ہو اور ملل ہالکہ تباہ ہوجائیں۔ خداتعالیٰ کی سنتِ قدیم میں سے یر امر بھی ہے کہ وہ ظاہر نہیں فرماتا جب تک اس کا وقت نہ آجائے۔ مگر اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ تخمریزی ہورہی ہے۔ اندرونی مصائب کو ہی دیکھو کہ وہ کیا رنگ لارہے ہیں۔ مُسلمانوں میں وحدت نہیں ہورہی جو کامیابی کا اصل الاُصول ہے۔ خوراج ۔ شیعہ الگ ہیں۔ حنبلی، شافعی، مالکی،حنفی الگ ہیں۔ صُوفیوں اور مشائخ میں الگ الگ تفرقہ شروع ہے۔ جیسا کہ چشتی۔ نقشبندی۔ سہروردی،قادری وغیرہ فرقوں سے معلوم ہوتا ہے۔ ہر ایک ان فرقہ والوں میں بجائے خود یہ خیال کرتا ہے اور کرتا ہوگاکہ اب اسی کا فرقہ کامیاب ہوجائے گا اور باقی سب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ حنفی کہتے ہوں گے کہ سب حنفی ہی ہوجائیں گے۔ راففیوں کے نزدیک ابھی رفض ہی کا زمانہ ہوگا۔ وجودی کہتے ہوں گے کہ سب وجودی ہی ہوجائیں گے۔ اصل میں یہ سب جھوٹے ہیں۔کیونکہ یہ باتیں خداتعالیٰ سے استمزاج کرکے تو نہیں کی جاتیں، بلکہ اپنے ذاتی اور سطحی خیالات ہیں۔ کوئی شخص خداتعالیٰ کے ارادہ تک نہیں پہنچا۔ خداتعالیٰ کے ارادے وہی ہیں جو قرآن شریف سے ثابت ہیں۔ جو طلم اس وقت کتاب اللہ پر اندرونی یا بیرونی طور پر کیا گیا ہے۔ جوفرقہ اس ظلم کا انتقام لینے والا اور کتاب اللہ کے جلال اور عظمت کو ظاہر کرنے والا ہوگا، وہی خدا سے تائید پائے گا۔ اور اس کی کامیابی خدا کے حضور سے مقدر ہے۔ جو اس ظلم کی اصلاح کرے گا خواہ اس فرقہ کا کوئی نام ہواگر وہ فرقہ دین کے لیے غیرت رکھتا اور کتاب اللہ کی عزت کے لئے اپنے ننگ و نام کو کھوتا ہے تو اس وقت ایک لذت اور بصیرت کے ساتھ خودبخود روشن ہوجائے گا کہ یہی خداتعالیٰ سے مدد یافتہ ہے۔ جو کچھ اس زمانہ میں پھیلا ہو اہے۔ اس کی بابت کچھ نہ پُوچھئے۔ بہت سے چور اور ڈاکو مل کرنقب زنی کررہے ہیں۔ اور ایک خطرناک سازش اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب اللہ کے خلاف کی جارہی ہے، مگر یہاں کچھ فکر ہی نہیں۔ اندرونی مفاسد نے مخالفوں کو موقع دے دیا ہے کہ متاعِ اسلام کے لوٹ لینے میں دلیر ہوجائیں۔