دعا فرمایا:’’جو بات ہماری سمجھ میں نہ آوے یا کوئی مشکل آوے تو ہمارا طریق یہ ہے کہ ہم تمام فکر کو چھوڑ کر صرف دعا میں اور تضرع میں مصروف ہو جاتے ہیں تب وہ بات حل ہو جاتی ہے۔‘‘ قرآن شریف پر غور کی ضرورت فرمایا۔’’افسوس ہے کہ لوگ جوش اور سرگرمی کے ساتھ قرآن شریف کی طرف توجہ نہیں کرتے جیسا کہ دنیا دار اپنی دنیا داری پر یا ایک شاعر اپنی شاعری پر غور کرتا ہے۔ویسا بھی قرآن شریف پر غور نہیں کیا جاتا۔بٹالہ میں ایک شاعر تھا ۔اس کا ایک دیوان ہے۔اس نے ایک دفعہ ایک مصرعہ کہا۔ صبا شرمندہ مے گر دو بروئے گل نگہ کردن مگر دوسرے مصرعہ کی تلاش میں برابر چھ مہینے سر گردان وحیران پھرتا رہا۔بالاخر ایک دن ایک بزاز کی دکان پر کپڑا خریدنے گیا ۔بزاز نے کئی تھان کپڑے کے نکالے پر اس کو کوئی پسند نہ آیا ۔آخر بغیر کچھ خریدنے کے بعد جب اٹھ کھڑا ہوا ،تو بزاز نے ناراض ہوا کہ تم نے اتنے تھان کھلوائے اور بے فائدہ تکلیف دی۔اس پر اس کو دوسرا مصرعہ سوجھ گیا۔اور اپنا شعر اس طرح پورا کیا۔ صبا شرمندہ مے گردو بروئے گل نگہ کردن کہ رخت غنیچہ راوا کردو نتو انست تہ کر دن جس قدر اس نے ایک مصرعہ کے لئے اٹھائی۔اتنی محنت اب لوگ ایک آیت قرآنی کے سمجھنے کے لئے نہیں اٹھاتے۔قرآن جوہرات کی تھیلی ہے اور لوگ اس سے بے خبر ہیں۔‘‘؎۱ ۱۲؍ستمبر۱۹۰۱؁ء مسیح موعود کی سچائی پر زمانہ کی شہادت اسلام کی موجودہ حالت خود بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی سلسلہ ایسا قائم کرے جو اس کو ان مشکلات سے نجات دے۔زیرک اور دانشمند انسان کے لئے یہ کیا کافی نہیں ہے کہ جب زمین پر تیاری ہو تو آسمان پر کوئی تیاری نہ ہو گی؟کیا مخالفوں نے اسلام کے نیست ونابود کرنے میں کوئی کمی چھوڑی ہے۔ پادریوں کی طرف دیکھوکہ انہوں نے کس قدر زور لگایا ہے۔ ان لوگوں کے ارادے ہیں اور ان کے نزدیک وہ امن جس کو یہ امن قراردیتے ہیں