رکھ کر اس میں معارف اور حقائق ہیں،وہ کوئی دوسرا بیان نہیں کر سکے گا۔یہ بھی فقط اعجاز قرآن ہی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے۔جب بعض نادان مقاماؔت حریری یا سبعؔ معلّقہ کو بے نظیر اور بے مثل کہتے ہیں اوراس طرح پرقرآن کریم کی ناے نندیت پرحملہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ اول تو حریری کے مصنف نے کہیں اس کے بے نظیر ہونے کا دعوی نہیں کیا اوردوم یہ کہ مصنف حریری خود قرآن کریم کی اعجازی فصاحت کاقائل تھا۔علاوہ ازیں معرضین راستی اورصداقت کو ذہن میں نہیںرکھتے بلکہ ا ن کو چھوڑ کر محض الفاظ کی طرف جاتے ہیں مندرجہ بالا کتابیں حق اورحکمت سے خالی ہیں۔ اعجاز کی خوبی اعجاز کی خوبی اور وجہ تو یہی ہے کہ ہر ایک قسم کی رعایت کو زیر نظر رکھے۔فصاحت اور بلاغت بھی ہاتھ سے جانے نہ دے۔صداقت اور حکمت کو بھی نہ چھوڑے۔یہ معجزہ صرف قرآن شریف ہی کا ہے۔جو آفتاب کی طرح روشن ہے ا ور ہر پہلو سے اپنے اندر ا عجازی طاقت رکھتاہے۔انجیلؔکی طرح محض زبانی ہی جمع خرچ نہیں کہ’’ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دوــــ‘‘یہ لحاظ اور خیال نہیں کہ ایسی تعلیم حکیمانہ فعل سے کہا نتک تعلق رکھتی ہے اورانسان کی فطرت کا لحاظ اس میں کہاں تک ہے؟ اس کے مقابل میں قرآن کریم کی تعلیم پڑھیںگے،تو پتہ لگ جائے گا کہ انسان کے خیالات اس طرح ہر پہلو پر قادر نہیں ہو سکتے اور ایسی مکمل اور بے نقص تعلیم جیسی کہ قرآن شریف کی ہے، زمینی دماغ او رذہن کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔کیایہ ممکن ہے کہ ہمارے روبر وایک ہزار مسکین آدمی ہوںاور ان میں سے ہم چند ایک کو کچھ دے دیں اور باقی کا خیال تک بھی نہ کریں۔ ایسا ہی انجیل ایک ہی پہلو پر پڑی ہے۔باقی پہلوئوں کا اسے خیال تک بھی نہیں رہا۔ہم یہ الزام انجیل پر نہیں دیتے کیو نکہ یہ یہودیوں کی شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔جیسی ان کی استعدادیں تھیں،انہیں کے موافق انجیل آئی۔’’جیسی روح ویسے فرشتے۔‘‘اس میں کسی کا کیا قصور؟ انجیل کی تعلیم مختص الزمان تھی اس کے علاوہ انجیل ایک قانون ہے مختص المقام والزمان اور مختص القوم۔جیساکہ انگریزبھی قوانین مختص المقام اور مختص الوقت نافذکر دیا کرتے ہیں۔جن کا بعدازوقت کوئی اثرنہیں رہتا ۔اسی طرح انجیل بھی ایک مختص قانون ہے۔عام نہیں۔مگر اس کے خلاف تعلیم قرآنی بہت وسیع ہے۔وہ قیامت تک ایک ہی لاتبدیل قانون ہے اور ہر قوم اور ہر وقت کے لیے ہے؛چنانچہ خدا تعالی فرماتاہے : وان من شیی الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم(الحجر:۲۲)یعنی ہم اپنے خزانوں میں سے بقدر معلوم نازل کرتے ہیں۔انجیل ضرورت(صرف)اسی قدر تھی،اس لیے انجیل کا خلاصہ صرف ایک صحفہ میں آسکتا ہے۔ قرآن سب زمانوں کے لیے ہے لیکن قرآن کریم کی ضرورتیں تھیںسارے زمانہ کی اصلاح۔قرآن کا مقصدتھا وحشیا نہ حالت سے انسان بنانا ۔انسانی آداب سے مہذب ا نسان بنانا۔تاشرعی حدود اور احکام کے ساتھ مرحلہ طے ہو۔اور پھر با خداانسان بنانا۔گویہ لفظ مختصر ہیں،مگر ان کے ہزارہاشعبے ہیں۔