مطھرۃ فیھا کتب قیمۃ(البینۃ:۳:۴)ایسی کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں ۔کتاب سے مراد اور عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔
قرآن مجید کی جامعیت
قرآن شریف حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور وہ رطب و یا بس فضولیت کا کوئی ذخیرہ اپنے اندر نہیںرکھتا۔ ہر ایک امر کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے ندر موجود ہے۔وہ ہر ایک پہلو سے آیت اور نشان ہے۔اگر کوئی اس امر کا نکار کرے تو تو ہم ہر پہلو سے اس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں۔آجکل توحید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہو رہے ہیں۔عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا ہے۔لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی ہی بابت لکھا ہے۔نہ کہ ایک مردہ،مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا۔اس کو آخر کار اسی خدا کی طرف آنا پڑے گا۔جو اسلام نے پیش کیا ہے۔کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتے میں اس کا پتہ ملتا ہے اور بالطبع انسان اسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ایسے آدمیوں کا قدم جب اٹھے گا۔وہ اسلام کے ہی میدان کی طرف اٹھے گا۔یہ بھی تو ایک عظیم الشان اعجاز ہے۔
قرآن مجید کا چیلنج
اگر کوئی شخص قرآن مجید کے اس معجزے کا نکار کرے تو ایک ہی پہلو سے ہم آزما لیتے ہیں۔یعنی اگر کوئی شخص قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں مانتا ،تو اس روشنی اور سائنس کے زمانہ میں ایسا مدعی خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلائل لکھے بالمقابل ہم وہ تمام دلائل قرآن کریم سے ہی دکھلا کر نکال دیں گے اور اگر وہ شخص توحید الہی کی نسبت دلائل قلم بند کرے تو وہ سب دلائل بھی ہم قرآن کریم سے ہی نکال کر دکھا دیں گے۔پھر وہ ایسے دلائل کا دعویٰ کر کے لکھے جو قرآن کریم میں نہیں پائے جاتے یا ان صداقتوں اور پاک تعلیموں پر دلائل لکھے جن کی نسبت اس کا خیال ہو کہ وہ قرآ ن میں نہیںہیں۔تو ہم ایسے شخص کو واضح طور پر دکھالا دیں گے کہ قرآن شریف کا دعویٰ فیھا کتب قیمۃ(البینۃ:۴)کیسا سچا اور صاف ہے،اور یا اصل وہ فطرتی مذہب کی بابت دلائل لکھنا چاہے تو ہم ہر پہلو سے قرآن کریم کا اعجاز ثابت کر کے دکھلا دین گے اور بتلا دیں گے کہ تمام
missing
صداقتیں اور پاک تعلیمیںقرآن کریم میں موجود ہیں
الغرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار موجود ہیں،لیکن ان کے حاصل کرنے کے لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے؛چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لا یمسہ الا المطھرون (الواقعۃ:۸۰)ایسا ہی فصاحت، بلاغت میں (اس کا مقابلہ نہ ممکن ہے)مثلاً سورۃ فاتحہ کی موجودہ ترتیب چھوڑ کر کوئی اور ترتیب استعمال کرو،تو وہ مطالب عالیہ اور مقاصد عظمی جو اس تر تیب میں موجود ہیں۔ممکن نہیں کہ کسی دوسری ترتیب میں بیان ہو سکیں۔کوئی سی صورت لے لو۔خواہ قل ھو اللہ احد ہی کیوں نہ ہو۔جس قدر نرمی اور ملاطفت کی رعایت کو ملحوظ