ایک ایسا جوہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ لطف کن لطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش ’’فاسق آدمی جو انبیاء کے مقابل پر تھے۔خصوصاً وہ لوگ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے مقابلہ پر تھے۔ان کا ایمان لانا معجزات پر منحصر نہ تھا اور نہ معجزات اور خوارق ان کی تسلی کا باعث تھے،بلکہ وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے اخلاق فاضلہ کو ہی دیکھ کر آپ کی صداقت کے قائل ہو گئے تھے۔اخلاقی معجزات وہ کام کر سکتے ہیںجو اقتداری معجزات نہیں کر سکتے لاستقامۃ فوق الکرامۃکا یہی مفہوم ہے اور تجربہ کر کے دیکھ لو کہ استقامت کیسے کرشمے دکھاتی ہے۔کرامت کی طرف تو چنداں التفات ہی نہیں ہوتا۔خصوصاً آجکل کے زمانے میں۔لیکن اگر پتہ لگ جائے کہ فلاں شخص بااخلاق آدمی ہے،تو اس کی طرف جس قدر رجوع ہوتا ہے۔وہ کوئی مخفی امر نہیں۔اخلاق حمیدہ کی زد ان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو کئی قسم کے نشانات کودیکھ کر بھی اطمینان اور تسلی نہیںپاسکتے۔‘‘ بات یہ ہے کہ بعض آدمی ظاہری معجزات اور خوارق کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں اور بعض حقائق اور معارف کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں ۔مگر اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی ہدایت اور تسلی کا موجب اخلاق فاضلہ اور التفات ہوتے ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر ایک قسم کے خوارق اور معجزات حاصل تھے۔ہم آپ کی شان کیا بیان کریں ۔جس طرف دیکھو،بے شمار معجزات ملیں گے۔ہر سہ اقسام بالا کے معجزات ملیں گے۔ہر سی اقسام بالا کے معجزات کا آپؐ مجموعہ تھے۔ظاہری کوارق مثل شق القمرؔ وغیرہ،دیگر معجزات جن کی تعداد تین ہزار سے بھی زائد ہے۔معارف اور حقائق کے معجزات سے تو سارا قرآن شریف لبریز ہے جو ہر وقت تازہ اور نئے ہیں اور بلحاظ اخلاقی معجزات کے خود آ پ ؐ کا وجود مقدس انک لعلی خلق عظیم(القلم:۵)کا مصداق ہے۔قرآن کریم اپنے اعجاز کے ثبوت میں ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ(البقرہ:۲۴)کہتا ہے۔یہ معجزات روحانی ہیں۔جس طرح وحدانیت کے دلائل دئیے ہیں۔اسی طرح پر اس کی حکمت، فصاحت، بلاغت کی مچل لانے پر بھی انسان قادر نہیں۔دوسرے مقام پر فرمایا:لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یا تون بمثلہ(بنی اسرائیل:۸۹) قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت غرض روحانی معجزات کے بارے میںکوئی یہ خیال نہ کر لے کہ یہ مسلمانوں کا زعم اور خیال باطل ہے۔ آجکل کے نیچری نہیں بلکہ وہ لوگ جو خلاف نیچر ہیں یہ نہیں مانتے کہ فصاحت وبلاغت قرآن شریف کا معجزاہ ہے۔سید احمد نے بھی ٹھوکر کھائی ہے اور وہ اس کی فصاحت اور بلاغت کو معجزہ نہیں مانتے۔جب ہم یاد کرتے ہیں،تو ہم کو فسوس ہوتا ہے کہ سید احمد نے معجزات سے انکار کیا ہے۔سید صاحب کسی طور سے معجزہ نہیں مان سکتے ۔کیو نکہ وہ کہتے ہیں کہ ایک معمولی درجہ کا آدمی یا اعلی درجہ کا آدمی بھی نظیر نہیںبنا سکتا،مگر افسوس تو یہ ہے کہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ قرآن مجید لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ یتلوا صحفاً