انہوں نے کہا کہ بیٹا جھوٹ کبھی نہ بولنا۔اس سے بڑی برکت ہوگی۔اتنا سن کر آپ رخصت ہوئے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل میں سے ہو کر آپ گزرے ،اس میں چند راہزن قزاق رہتے تھے۔جو مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔دور سے سید عبد القادر صاحب پر بھی ان کی نظر پڑی۔قریب آئے،تو انہوں نے کمبل پوش فقیر سا دیکھا۔ایک نے ہنسی سے دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟آپ ابھی اپنی والدہ سے تازہ نصیحت سن کر آئے تھے کہ جھوٹ نہ بولنا۔فی الفور جواب دیا کہ ہاں چالیس مہریں میری بغل کے نیچے ہیں۔جو میری والدہ صاحبہ نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں۔اس قزاق نے سمجھا کہ یہ ٹھٹھا کرتا ہے ۔دوسرے قزاق نے جب پوچھا تو اس کو بھی یہی جواب دیا ۔الغرض ہر ایک چور کو یہی جواب دیا۔وہ اسے اپنے میر قزاقان کے پاس لے گئے کہ بار بار یہی کہتا ہے۔امیر نے کہا۔اچھا۔اس کا کپڑا دیکھو تو سہی۔جب تلاشی لی گئی،تو واقعی چالیس مہریں بر آمد ہوئیں ۔وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے۔ہم نے ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔امیر نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ تو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ بتا دیا؟ آپ نے فرمایا کہ میں خدا کے دین کی تلاش میں جاتا ہوں ۔روانگی پر والدہ صاحبہ نے نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ کبھی نہ بولنا۔یہ پہلا امتحان تھا۔میں جھوٹ کیوں بولتا۔یہ سن کر امیر قزاقان رو پڑا اور کہا کہ اہ !میں نے ایک بار بھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ مانا۔چوروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے۔اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا اور توبہ کرتا ہوں ۔اس کے کہنے کے ساتھ ہی باقی چوروں نے بھی توبہ کر لی… میں ’’چوروں قطب بنایا اِی‘‘اسی واقعہ کو سمجھتا ہوں ۔الغرض سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے بیعت کرنے والے چور ہی تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یا ایھا الذین امنو اصبروا(آل عمران:۲۰۱) صبر ایک نقطہ کی طرح پیدا ہوتا ہے اور پھر دائرہ کی شکل اختیار کر کے سب پر محیط ہوجاتا ہے۔آخر بد معاشوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ انسان تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دے اور تقویٰ کی راہوں پر مضبوطی سے قدم مارے۔کیونکہ متقی کا اثر ضرور پڑتا ہے اور اس کا رعب مخالفوں کے دل میں بھی پیدا ہوجا تا ہے۔ تقویٰ کے اجزاء تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عُجُبؔ، خود پسندیؔ،مال حرام سے پرہیز اور بد اخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے۔اس کے دشمن بھی دوست ہوجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اد فع بالتی ھی احسن (المومنون:۹۷ ) اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟اس ہدایت میںاللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے،تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر سبر کیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے برھ کر ہے جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک زرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے،لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی